قصہ ایک میثاق کا

عداوت

ابلیس کی تنہائی حقیقی ہی نہیں علامتی بھی بن گئی۔
بھرے دربار میں وہ با لکل تنہا رہ گیا۔
اسے احساس تھا کہ اس سرکشی میں اس کی تباہی ہے۔
اسے یہ بھی علم تھا کہ نجات کا ذریعہ اعتراف ِکمزوری اور ندامت کا اظہار ہے۔
مگر اس کے وجود میں آدم کی نفرت سوار تھی۔ 
آدم کی فوقیت میں اسے اپنی تذلیل نظر آئی۔ 
اس کے دل میں پچھتاوا تھا پر ندامت نہیں۔
اس کے ذہن میں تکبر ہی تھا، کوئی خود بینی نہیں۔
اور تکبر خالق حقیقی کا وہ وصف ہے جو صرف اس کی ذات کو ہی بھاتا ہے۔
عبدیت اور خدائی کا امتیاز آج ابلیس نے کھو دیا۔

جب صفائی کا موقعہ دیا گیا کہ بیان کرو تمھاری حکم عدولی کا سبب کیا ہے، تو ابلیس نے نہ تو عذر پیش کیا اور نہ ہی کوئی اقبالِ جُرم۔
حسد میں غرق اس سے ایک ہی بات بن پائی: میں اس سے بہتر ہوں!
شیطان کی انا اسے لے ڈوبی۔

تکبر کوئی عذر نہ تھا۔
اس مالک کے دربار سے تو بے کسی اور لاچاری بھی انتباہ کے طور پر آتی ہے مبادہ انسان اپنے آپ کو مختار کل نہ سمجھ بیٹھے۔
ابلیس مجرم ٹھہر ا، ملعون قرار ہوا، اشراف میں سے بدر کر دیا گیا۔
اب کوئی چارہ نہ تھا۔ کوئی سہارا نہ تھا۔
ایک حقیر مٹی نے آتش کی شان چھین لی، اس کے شعلے گرفتار کرا دیئے۔
عداوت کی آگ اور بھڑک اٹھی۔
اس نے آدم اور اس کی نسلوں سے انتقام کا ارادہ کیا۔
جیسے وہ بے نقاب ہوا تھا ویسا ہی آدم کو بے حجاب کرنے کا عزم کیا۔

جب ہلاکت سامنے آن کھڑی ہو تو جہاں سارے خُمار مٹ جاتے ہیں وہاں ذہن کے غبار بھی چھٹ پڑتے ہیں۔
اسے وہ یوم میثاق یاد آیا۔ نسل در نسل چلتی آدم کی اولاد نظر آئی۔
اب اس پر با لکل عیاں ہو گیا کہ خدا نے اولادِ آدم کی ارواح کو کیوں جمع کیا تھا۔ 
وہ عہد و پیماں، وہ معاہدہ کس لیے کیا گیا۔
وہ عہد نامہ کیوں لیا گیا۔
کوئی انتباہ ضروری تھا۔ کوئی حجت تمام کرنی تھی۔

اسے اپنا رستہ نظر آگیا، اولاد آدم پر ممکنہ ضرر نظر آ گیا۔
اپنی ہلاکت میں اسے اپنا انتقام پورا ہوتا دکھائی دیا۔
اس کے حافظے نے میثاق کا منظر عکس کر لیا۔ 
ہر ہر آدم زاد کا چہرہ حفظ کر لیا۔

یکا یک اس کے منتشر خیالات ایک اور جانب مرکوز ہونا شروع ہو گئے۔ 
اپنی تمام تر سرکشی کے باوجود اس کا جسم کپکپا گیا۔
اب سے پہلے تک جہنم کی سبب تخلیق ایک معمہ تھی۔ 
جب ہر جانب سکون ہو تو ان بے آباد عقوبت خانوں کا بھلا کیا مقصد!
آج اسے سب کچھ سمجھ آ گیا۔ 
وہ لرز گیا۔ وہ برباد ہو گیا۔

آدم کے معرکہ میں شیطان نے روزِ اول ہی شکست پائی۔
اب اس کی تمام توجہ اس بات پر صرف ہوئی کہ بنی آدم خود بھی فتح یاب نہ ہو۔

ایک بار پھر وہ بارگاہ ایزدی میں حاضر ہوا۔ دل میں کدورت لیکن زبان پر التجا لیئے ہوئے۔
اے میرے رب، پھر تُو مجھے مہلت عطا فرما دے۔
جیسا کہ آج میں تباہ ہو گیا ہوں، مجھے تیری عزت کی قسم، میں نسل آدم کو بھی برباد کر دوں گا۔ مجھے تُو مہلت دے دے۔
اسے یقیں تھا کہ یہ فرصت اسے ضرور ملے گی۔
رب العزت نے جہنم کی تخلیق کا راز جو کھول دیا تھا۔

مہلت تو اسے بہت بڑی ملی پر وقت انتہائی کم۔
اجتماعی انسانیت کے لحاظ سے یہ فرصت قیامت تک کی رہی پر انفرادی پس منظر میں یہ موقع ہر شخص کی فقط چند سالہ دنیاوی زندگی پر محیط تھا۔
اس نے تو چہرے حفظ کئے تھے، اسے تو ہر ایک سے حساب چکانا تھا۔
اس کی عداوت یہ تو نہ تھی کہ وہ دریا کے کنارے کھڑا ہو کر بشریت کی ایک ایک مچھلی کو کنڈے والی تار سے پکڑے۔
وہ تو سمندر کو چیرتا ایک جہاز بننا چا ہتا تھا جس کے کوسوں پیچھے پھیلے جالوں سے انسانیت کے تمام ماہی کو لقمۂ اجل بنا لیا جاتا۔
اسے اپنی بے بسی پر افسوس ہوا، اپنی بے کسی کا غضب احساس ہوا۔

لیکن فی الحال کچھ اور بھی ضروری کام تھے۔ ابھی بہت کچھ کرنا باقی تھا۔
اس نے اپنے خیالات کو سمیٹا۔ اپنے اندر کی آگ کو ماند کیا۔
انسان کی خلافت دنیا کے لیے تھی چنانچہ میدان کار زار بھی وہی قرار پایا۔
ابھی تو آدم جنت میں ہی ہے، اسے بھی تو دنیاتک پہنچانا تھا۔
یہ بھی خوب ستم ظریفی ہے۔ 
جناب ِ خلیفہ کو قصرِ خلافت تک لانے کی ذمہ داری بھی اسی پر ٹھہری۔

Close Menu