قصہ ایک میثاق کا

ابتدا

آدم و حوا دوبارہ جنت میں داخل ہو گئے۔
باغاتِ عدن کی بہاریں اب بھی اُسی طرح قائم تھیں۔
-سب کچھ کتنا اپنا اپنا سا تھا!

لیکن آج وہ تنہاء نہیں تھے۔ 
اُن کی اولاد کی ایک بہت بڑی تعداد بھی اُن کے ہمعصر تھی۔
سب جواں۔ سب ترو تازہ۔ دمکتے مسکراتے چہرے لیے۔
تاریخ نے بھی کتنے روپ بدلے پر آج پھر وہاں ٹھہر گئی جہاں سے ابتدا ء ہوئی۔
اپنائیت سے آدم نے حوا کی جانب مسکرا کر دیکھا۔ کھلکھلاتی ہنسی کے ساتھ حوا نے اُن کا ہاتھ تھام لیا اور دونوں اپنے جانے پہچانے راستوں پر دوڑ پڑے۔ 
آج پھر پرندے چہچہا رہے تھے۔ آج پھر مہکتے پھول لہلہا رہے تھے۔
نہر کے کنارے پہنچ کر وہ تھم گئے۔
حوا کو ایک پرانا عکس سا نظر آیا۔ 
پنڈلیوں تک ڈوبے وہ پاؤں جنہیں انھوں نے کبھی عجلت میں باہر کھینچ لیا تھا۔
آہستہ آہستہ چلتے ہوئے وہ اُس جانب رواں ہوئے جہاں کبھی خوف کا سایہ منڈلایا کرتا تھا۔
جنت میں انھیں ایک جگہ خالی دکھائی دی۔
وہ جہاں کبھی ایک شجرِ ممنوعہ ہوا کرتا تھا۔

ّّّّّابلیس آتش کدہ کی گہرایوں کا باسی بنا۔
دہکتی آگ اور لوہے کی سلاخوں میں جکڑا، اُس کا تن من جھلسنے لگا۔
آج اُس کا حساب بے باک ہوگیا۔
نہ وہ سرکشی رہی اور نہ ہی وہ چالاکیاں۔
اُسے اپنے اردگر جنات اور انسانیت کا ایک جمِ غفیر نظر آیا۔ 
بنی آدم کو یوں در بدر دیکھ کر نہ تو اُسے کوئی اطمینان حاصل ہوا اور نہ ہی کچھ سکوں۔
جب خود اپنا بد ن مشتعل ہو تو دشمنوں کی تباہی بے معنی ہو جایا کرتی ہے۔
اپنی چلاتی دھاڑ وں کے پس منظر میں آ ج اسے شدت سے احساس ہوا کہ اُس نے جو کچھ کیاعبث ہی کیا۔
تخلیق سے قیامت کا سفر تو چند لمحوں میں ہی گزر گیا۔
دوام تو یہ ہے جہاں وہ اب پڑا ہے۔ 
جہنم کی اتھاہ گہرائیوں میں اُس نے اپنے ارد گرد کے انبار پر نظر دوڑائی اور نا امیدی کے 
عالم میں اُس پر ایک اور حقیقت عیاں ہو گئی۔
حسد اور سر کشی کے جذبات کتنے بڑے کہرام کے مؤلف بن جاتے ہیں۔

آدم کو حیاتِ جاویداں کی لالچ دینے والے کے دل میں آج ایک بہت بڑی تمنا تھی۔
!اے کا ش اسے موت ہی آ جاتی
!اے کاش وہ اُس دن سجدہ کر ہی لیتا

Close Menu