قصہ ایک میثاق کا

انتقام

ملعون ومردود ہونے کے بعد ابلیس کا نہ کسی سے یارانہ رہا اور نہ ہی پرانے ٹھکانے۔
-ان بھرپور آسمانوں میں وہ تنہا رہ گیا
اپنی ہی لگائی ہوئی حسد اور بغض کی آگ میں وہ جھلستا رہا۔
اب اُس کے دو ہی ساتھی رہ گئے تھے۔ 
ایک اُس کی تنہائی اور دوسرا اُس کا جذبہ انتقام۔
اپنی اپنی جگہ دونوں ہی موثر قوتیں۔ 
غم و غصے میں کبھی تو وہ شہابِ ثاقب کی طرح آسمانوں کی گہرائیوں میں بھڑکتا اور کبھی کسی 
ویران جزیرے کا آتش فشاں بن جاتا۔ 
کبھی سمندر کی امواج کے ساتھ ساحل کی چٹانوں سے ٹکراتا تو کبھی رات کی تاریکی میں اپنا تئیں گُم کر دیتا۔
رفتہ رفتہ اُس پر ایک خاموش سا غُبار چھاگیا۔ 
وہ دہکتی آگ سلگتے انگاروں میں تبدیل ہونا شروع ہو گئی۔

!کیسے۔۔ کیسے
اُس کے وجود میں بس یہی ایک خیال رچ بس گیا۔
انتقام کا ایک طریقہ تو یہ تھا کہ وہ آدم کی جان لے لیتا، ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتا۔ مگر نہ تو جان لینا اُس کے بس میں تھا اور نہ ہی انسانیت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ۔
اُ س نے تومیثاق کا مشاہدہ کیا تھا، نسل در نسل اولادِ آدم کو دیکھا تھا۔
کیسے۔۔ وہ کیا کرے جو سب کچھ تباہ کر دے۔ 
بچھی ہوئی اِس بساط کو اُلٹ دے۔

تنہائی شروع میں افسردگی اور پھر فراست کا لباس پہنا تی ہے۔
اُس کی عداوت کی یکسوئی نے اُس کے خیالات کو اور بھی مرکوز کر دیا۔

دشمن ملک کی سلطنت پر قبضہ کرنا ہو تو فوجی چڑھائی کی جاتی ہے اور اگر اُس کی عسکری قوت زیادہ ہو تو پھر ایوانِ اقتدار کو محلاتی سازشوں میں جکڑ لینے کا طریقہ آزمودہ ہے۔
عوام و خواص اندرونی خلفشار کا شکار ہو جاتے ہیں اور دشمن کی فتح یقینی۔

انسانیت،ابلیس کی نظر میں ایک متحد اُمت تھی اور اُس کی عداوت سب سے یکساں، سب سے اتنی ہی شدید۔
پر یہاں نہ تو کوئی شاہی خاندان تھا اور نہ ہی حکومت کے اہلکار۔
سب ایک ہی قوم، ایک ہی ملت۔
اتنی بڑی یگانگت کو وہ نہ اکھاڑ سکتا تھا اور نہ پچھاڑ۔ 
یہ تو ایک بہت بڑی فصیل تھی!
اُسے اِس سلطنت میں پھوٹ ڈالنے، عداوت کے بیچ بونے کے لیے کوئی اور انداز اپنانا ہو گا۔ اُس کے تشکیلی اجزاء کا معائنہ کرنا ہو گا۔
جب انسانیت کے حصار کو جانچا تو فصیل کی اکائیاں سامنے آنے لگیں۔ 
انسان اپنی برادری، کنبہ، خاندان سے سمٹتے ہوئے ایک جوڑے پر آ کر محدود ہو گیا۔
اب اُس کا کام آسان ہو گیا۔ اگر یہ جزو اُس کے قابو میں آ نے شروع ہو جائیں تو اِ س کے ذریعے وہ پوری بساط پلٹ سکتا ہے۔

نسلوں کو تباہ کرنے کا آج بھی رواج یہ ہے کہ بے راہ روی میں لگا دو۔
یہ روش نفس پرستی پر راغب کرتی ہے اور جب انسان اِس کا غلام بن جائے تو اشرفیت کا اساسی نظام چھوٹ جاتاہے۔
لیکن اخلاقی بے لگامی کے لیے عریانیت کا ہونا ضروری ہے کیونکہ اِسی سے تو ہوس کی آگ بھڑکتی ہے۔
اور عریانیت تو بے حجابی اور بے پردگی کا ہی نام ہے۔
وہی جو بہشت کے ایک باغ میں کچھ عرصہ پہلے نظر آئی۔

ابلیس نے آدم و حوا کو بے حجاب تو کر دیا پر اُس کی یہ فتح شخصی رہی۔
رب العزت کے دربار میں کوئی کسی کا بوجھ نہیں اُٹھایا کرتا۔ 
جس کا عمل اُسی کو بھائے!
والدین کی خطا کے بوجھ تلے اولادِ آدم برہنہ نہیں رہ گئے۔ 
دنیا میں اُن کی عصمت کی پاسداری کا سامان پہلے ہی سے مہیا کر دیا گیا تھا۔

ہمیں کچھ چیزیں دائمی سچائی کے اصول پر نوازی گئی ہیں۔ شیطان کی چالوں سے بچنے کے لیے چند مربوط اوزار۔
یہ وہ بنیادی سازو سامان ہیں جنھوں نے انسان کی اشرفیت کو قائم کرنے میں اہم کردار 
ادا کیا ہے۔
انصاف کو ہر دور میں ظلم پر قبولیت حاصل رہی ہے، سچائی تمام ادوار میں جھوٹ کے مقابلے میں رائج رہی اور اسی طرح علم کو جہالت پر اور صحت کو بیماری پر فو قیت ہے۔
شائد لباس کا انسانیت میں مقبول ہونا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔

شیطان کے خلاف معرکہ آرائی میں اِن اساسی اجزاء کے بغیر ہمارے اندر بھلائی اور برائی میں تمیز کا معیار ختم ہو جاتا، انسانیت بھٹک جاتی، باآسانی شکست خوردہ ہوتی۔
دائمی سچائی کی یہ قدریں یا تو معاشرتی ہیں یا پھر اخلاقی۔ 
البتہ لباس کی بات مختلف ہے۔ 
یہ ایک خارجی لبادہ ہے جو مختلف ادوار اور جغرافیائی حدوں میں اپنی ہیت اور رنگ 
بدلتا رہتا ہے۔
اگر غور کریں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ کتنا منفرد سا عمل ہے یہ لباس میں ڈھانپ لیا جانا۔
جہاں دنیا میں باقی مخلوقات اِس تکلف سے بے نیاز ہیں وہاں ہمیں بدن کو لباس میں ڈھانپنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے
!ہمیں ہی کیوں

یہ لباس کا اوڑھنا اور عریانیت کا نہ ہونا کتنا ضروری ہے اِس بات کا اندازہ کرنے کے لیے اگر ہم اپنی جانب دیکھیں تو پہلی چیز جس کا ہمیں احساس ہوتا ہے وہ ‘ ستر ‘ ہے، اور پھر ہمیں اس میں زینت اور تن زیبی نظر آتی ہے۔
جب اور مرکوز ہوں تو ایک اور اِدراک “تحفظ” کا ہے۔
لبادہ اوڑھانے کی وجہ اگر محض موسم کی تندی اور تیزی سے بچانا ہوتی تو ارتقائی نظام کے خود ساختہ اصولوں کے مطابق بندروں اور ریچھوں کی ماند ہماری جِلد پر بالوں کا ایک نقاب آجاتا۔ 
مقصد موسم سے نہیں، بے حجابی سے بچنا تھا۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ مالکِ کائنات نے ہمیں لباس کی صورت میں ایک ڈھال عطا فرما دی جس سے ابلیس کے اُس داؤ ‘کا بچاؤ ‘نکل آیا جو اُس نے جنت میں ہمارے والدین پر کیا۔

!کتنا منفرد طریقہ نکالا
ایک ایسا حل جس کی مثال دنیا کے کسی اور حیاتی نظام میں نہیں ملتی۔
!کپڑے پہنا دو! ستر چھُپا دو
ابلیس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو گا کہ کپاس کا ایک نا چیز سا پود ا اُس کی اتنی جامع چال کو خاک میں ملا دے گا۔ 
اُسے کیا خبر تھی کہ رب العزت نے روئی کا پھول اور ریشم کا کیڑا آدم کی تخلیق سے بھی پہلے کس دور اندیشی میں پیدا کیا
کچھ نقطے اِن سے بھی جا کر ملنے تھے۔

دنیا بھر میں لباس کا رائج ہونا انسان کی بنیادی شرافت کی غمازی ہے۔ 
ہماری اجتماعی شائستگی اور شرافت کی علمبردار۔
قابلِ ستائش ہیں وہ جنہوں نے اپنی معاشِ زندگی لباس کی بناوٹ، کٹائی اور سلائی 
میں رکھ لی۔
قابلِ احترام ہیں جنہوں نے خوبصورت لباس کو اپنا معیار بنا لیا۔
قابلِ تحسین ہیں ہم میں سے وہ جو گھروں میں بھوک و افلاس ہونے کے باوجو د بھی اپنا لبادہ اوڑھے رکھتے ہیں۔
جب تک ہم اِس میں اپنی زینت، آلائش اور ستر کا ساماں رکھیں گے، آج کے آدم و حوا کا ایک بہت پرانا حساب بے باق ہوتا رہے گا۔

Close Menu