قصہ ایک میثاق کا

انتباہ

آدم کو ایک جورو بھی عطا ہوئی اور دو باتیں نصیحت کی۔ ایک تنبیہ اور ایک ہدایت۔
انتباہ اس بات سے کیا کہ یاد رکھو شیطان تمھارا کھلا دشمن ہے۔
اور حکم یہ ملا کہ فلاں درخت کے پھل سے دور رہنا، اس کے پاس بھی نہ جانا۔
باقی ساری جنت تمھارے تصرف میں ہے۔

کتنے سادہ احکام تھے اور کمال سادگی سے بھلا دیے گئے۔
نہ جانے کیا ہوتا اگر وہ درخت پیدا ہی نہ کیا جاتا، شیطان کو جنت سے دور دھتکار دیا جاتا۔
پر زمین کے خلیفہ کا جنت میں کیا مقام۔ 
ابھی زندگی کے آبشاری دور بھی تو دیکھنے تھے۔

بچوں کی کتابوں میں تصویر بنانے کا ایک دلچسپ انداز ہوتا ہے۔
سادہ کاغذ میں کچھ نقطے، چند حروف پھیلے ہوتے ہیں۔ کچھ بن نہیں پڑتا۔ 
لیکن جیسے ہی ان حروف، ان نقطوں کو ملانا شروع کیا، تصویر ابھرنے لگی۔ 
آہستہ آہستہ ایک دلکش منظر تیار ہو جاتا ہے۔

زندگی بھی ایسے ہی ابھرا کرتی ہے۔
ایک غیر منفرد اور بظاہرغیر متعلقہ واقعہ ہوتا ہے او ر پھر اس سے کڑیاں ملنی شروع
ہو جاتی ہیں۔
یاریاں، دوستیاں، رشتے، اسی طرع حادثاتی ملاقاتوں پر قائم ہو تے ہیں۔
وہ نوجوان لڑکا جس نے اپنے کسی دوست یا عزیز کی محفل میں ایک دوشیزہ کو اتفا قاً دیکھا تھا، وقت کی کڑیاں ملاتا ہوا اُس کا شوہر اور پھر اُن بچوں کا باپ بن جاتا جو اس رشتے سے جنم لیتے ہیں۔ اور یہ سب مل کر ایک خاندان اور پھر ایک کُنبہ تشکیل دے دیتے ہیں۔
صرف ایک اتفاقیہ ملاقات سے۔
مگر شاید کارخانہ خدا میں کوئی چیز اتفا قاً نہیں ہوا کرتی۔
ہر نقطہ کسی بڑی تصویر کا ایک اہم رکن ہے۔

آدم کا قیام دنیا پر ہونا تھا۔ انسان نے جسم و روح کے ایک اور اہم دور سے گزرنا تھا۔ 
اس انسانیت کا مشترکہ اور اشخاص کا انفرادی امتحان ہونا تھا۔ 
ابھی تصویر نا مکمل تھی۔
بہت سے نقطے ملنے باقی تھے۔

یہ ہستی اور وجود کا نظام بھی خوب ہے۔
انسانیت کا سفر، چاہے وہ شخصی ہو یا اجتماعی، موت و حیات کے متعدد ادوار سے گزرتا ہے اور آج کی شعوری دنیا اس تسلسل کا ایک ادنیٰ مگر انتہائی اہم جزو ہے۔
یہ سب کچھ ایسا ہے کہ جیسے ایک دریا کوسوں دور سے بہتا چلا آرہا ہو اور دفعتا ً ایک مخصوص مقام پر ہنگامہ خیز آبشار میں تبدیل ہو کر دوبارہ خراما ں خراماں سمندر سے جاملے۔
دنیاوی زندگی وہ آبشار ہے جو ازل سے آتے ہوئے ہمارے وجود کے دریا کو ملتی ہے اور یہاں کی موت ہمیں ہمارے سفر ابد کی جانب رواں دواں کر دیتی ہے۔
فرق شائد صرف اتنا ہے کہ دریا اپنے اختتام پر فنا ہو جاتا ہے اور ہم نے اپنے سفر کا آغاز حالت فنا سے نکل کر کیا۔
ان مختلف ادوار سے گز رتے ہوئے کبھی تو ہمارے روح و جسم کی پرواز انفرادی ہوتی ہے تو کبھی یہ ضم ہو کے یک قالب یک جان ہو جاتے ہیں۔

جزا و سزا کا اطلاق ان اعمال پر ہوتا ہے جو ہمارے وجود کے آبشاری دور میں، روح و جسم کی یگانگت کے دوران ہوتے ہیں۔
جو عمل ہم یہاں کرتے ہیں وہ نہ صرف اس دور حیات میں قابل قدر یا مو اخذہ ہوتے ہیں بلکہ عہد ثانی میں بھی۔
اپنی زندگی کے آبشاری دور سے گرتے وقت ہم اُس پُر آشوب، پُر شور گھٹاؤ کی وجہ سے اپنے ماضی اور مستقبل سے منقطع ہو جاتے ہیں۔
اپنے اس دور میں محو، اپنے حالات میں گُم۔
جس طرع گندم کا دانہ چکی میں آنے کے بعد پِسے بغیر نہیں نکل سکتا، گنا بیلن میں جکڑے جانے کے بعد رَس بن کر ہی نکلتا ہے، اسی طرح اس آبشاری دور میں آنے کے بعد اب مرے بغیر کوئی چارہ نہیں۔

اس آبشار سے گرتا ہوا بشریت کا قطرہ بیک وقت دو منفرد صفات پر، دو مختلف محاذ پر
برسرِ پیکار ہوتا ہے۔
ایک عمودی اور ایک سطحی۔
سطحی طور پر ہم، انسانیت بحیثیت ایک مجموعہ، سرعت سے نیچے کی جانب غوطہ زن ہیں۔
اپنی اگلی منزل سے جا ملنے کے لیے۔
اد ھر نہ مذہب کی قید ہے اور نہ ہی جنس کی۔ ہم سب ایک ہیں۔ 
یہاں کا میزان انسانیت ہے۔
ایک ہی ابتداء سے شروع ہوتے ہوئے ایک ہی انتہاء کی جانب۔ 
جب تک اِس آبشار کو عبور نہیں کر لیتے، دریا میں تبدیل نہیں ہوں گے۔

عمودی پیرائے پر ایک بالکل ہی منفرد داستان ہے۔
یہ ہماری ذاتی زندگی ہے۔ ہمارے انفرادی اعمال کا مجموعہ۔
یہاں ہم اپنے اختیا ر کردہ اعتقادات اور اپنے معاشرتی اسلوب کے کلی طور پر
ذمہ دار ہیں۔
ہماری منزل اب بھی آبشاری دور کے اختتام کا وہ دریا ہے جو ہمیں ابد کے سفر پر گامزن کر دے گا مگر ہماری فوقیت یا تنزلی کا معیار ہمارے وہ ذاتی افعال ہیں جو ہم نے اس وجود میں کیے۔
اب جو چا ہے اس دورانیے میں اپنے کام سنبھال لے یا پھر ڈوب جائے۔
یہ تصور کر لینا کہ یہاں سے بہت آسائش سے گزر جائیں گے، سادگی ہی ہے۔

لیکن یہ اچھے برُے اعمال کی صلاحیت ہوتی کیوںکر ہے-
بذات ِخود روح تو وہ پاک اور معصوم ہدیہ ہے جو کہ رب العزت نے انسان کو عطا فرمایا اور تنہا جسم محض ایک تودہ۔
جب ان دونوں کا ملاپ ہوتا ہے تو جہاں زندگی کی ایک نئی روش قائم ہوتی ہے وہاں ایک تیسری قوت بھی جنم لیتی ہے جسے ” نفس” کہتے ہیں۔ 
یہ ایک طاقتور عنصر ہے اور جزاء و سزا کے تسلسل کی اہم کڑی۔
نفس تو وہ قوت ہے جس نے ہر ایک کو آزمایا، بہتوں کو بہکایا۔ 
جس نے نفس سنبھال لیا وہ کامران ہو گیا۔

روزمرہ کے مشاہدے میں اس کی مثال جوہری توانائی میں ہے کہ جہاں دو مختلف عناصر کی گلاوٹ ایک ایسی تیسری قوت کو جنم دیتی ہے جس کے قابو کرنے میں سہولتیں اور بے مہار چھوڑنے میں تباہی ہے۔
جس طرح جوہری توانائی کو ضبط کرنے کے لیے آ ہنی دیواروں اور محفوظ راستوں کا اہتمام ضروری ہے اسی طرح نفس کو قابو کرنے والی آ ہنی دیوار تقویٰ ہے اور اس کا مامون راستہ تنظیم میں پوشیدہ ہے۔

لفظ تقویٰ کو بھی نہ جانے کیوں محض خوف سے منسلک کر دیا گیا ہے حا لانکہ تقویٰ میں غالب عنصر پرہیزگاری کا ہے۔
تقویٰ تو ایک بیداری کی کیفیت ہے، اپنے رب کی جانب رجوع رہنے کا ایک
اختیاری احساس۔
بالکل ایسے ہی جیسے کہ ایک ماہی گیر سمندر کے وجود سے نہ تو غافل ہو سکتا ہے نہ بے پرواہ۔
ُاُس کی سواری، اُس کی غذا، یہاں تک کہ اُس کی رہائش بھی سمندرکے مزاج سے مطابقت رکھتی ہے۔

جیسے ہم نے لباس سے اپنا بدن ڈھانپ لیا اسی طرح تقویٰ ہمارے اندر کا ایک لبادہ ہے۔ 
جس طرح غذا ہمارے جسم کو طاقت عطا کرتی ہے اور ہم توانا ہو کر زندگی کی راہ داریوں پر گامزن ہو جاتے ہیں اسی طرح تقویٰ ہمیں وہ اندرونی طاقت حاصل کرنے کا سبب بنتا ہے جس سے ہم اپنے نفس کے بے مُہار وحشی کو نتھ ڈال دیتے ہیں اور شیطان کی سرائیت کو محسوس کرنے کا شعور پا لیتے ہیں۔

تقویٰ کی ابتدا ء ‘لحاظ ‘ میں ہے۔ 
وہ لحاظ، وہ ‘رواداری، جو کہ ایک شخص اپنے سابقہ استاد کو دیکھ کر احتراماً کھڑا ہونے سے ظاہر کرتا ہے۔ 
اور اس کی معراج خوفِ خدا ہے۔ اِس پہاڑ کی چوٹی۔
رواداری اور پرہیزگاری تو ہر شخص اپنا سکتا ہے لیکن خوفِ خدا کے لیے ‘ایمان ‘ شرط ہے۔

ہم نہ جانے کیوں نظرانداز کر دیتے ہیں کہ تنظیم اور تقویٰ بہت فطری عمل ہیں، ایک کی کیفیت ظاہری ہے تو دوسرے کہ باطنی۔
کائنات کا نظام تنظیم کے بغیر چل نہیں سکتا اور تنظیم اپنانے کے لئیشعوری طور پر حکم خداوندی پر مرکوز ہونا ضروری ہے۔ 
مگر ہم میں سے اکثر اس زندگی کی گہماگہمی میں بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔
اس بات کے بھی روادار نہیں کہ رب العزت کی جانب سے خلافت ملنے کا مقصد اس نظام کو تقویت دیتا ہے، نہ کہ انتشار برپا کر دینا۔
شائد اس دنیاوی زندگی میں اِن کو اختیاری بنا کر ہمارا امتحان لینا مقصود ہے۔

دُنیا میں ہماری موت و حیات کا نظام بھی سبق آموز ہے۔ 
سارے رشتے ناطے اس نظام کے ہی بدولت ہیں۔
اولاد پیدا ہوتی ہے اور رشتے جڑ جاتے ہیں، جو تا حیات قائم ہیں۔
پھر جب موت واقع ہوئی تو سب کچھ چھوٹ جا یا کرتا ہے۔
آ گے تنہائی کا سفر ہے۔ 
اپنے اعمال اور خود وہ شخصیت، کوئی کسی کے کام نہیں آنا۔
وہی افسُردہ ’پیارے‘ قبر میں اُتار دیتے ہیں۔
وُہی پُر نم آنکھیں تنہا چھوڑ جاتی ہیں۔
کیا ہی ضروری ہے کہ ہم اِس حقیقت کو تھام لیں۔ اپنی تنہائی کے اِس طویل سفر کے زادِ راہ کا بندو بست کر لیں۔
لیکن ہماری تخلیق جِس خاک سے ہوئی، اس دُنیا کی مٹی میں شاید بڑی اپنائیت، بڑی جاذبیّت ہے۔
اس کی رنگینیاں آنکھوں کو تو مُوہ لیتی ہیں، پر دِل اکثر ویران ہو جا یا کرتے ہیں۔
ہم بھول جاتے ہیں۔

جِس طرح گردشِ دُنیا کے واقِف ہوتے ہوئے ہم اِس کا ادراک نہیں رکھتے، اسی طرح گردشِ زماں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ 
یہاں تک کہ تنہائی کے سفر کا وقت آ پڑتا ہے۔
روح و جسم کا تعلق ایک بار پِھر مُنقطع ہو نے پر سب رشتے، تمام رونقوں کا بار اتار دیا
جاتا ہے۔
سرابِ دُنیا کی حقیقت کُھل جاتی ہے، پر بہت دیر سے۔

ہم میں کچھ وہ ہیں کہ جب اُن کے بالوں میں سفیدی نمایاں اور جِلد کا کھچاؤ ماندہو کر جُھریوں
میں تبدیل ہونے لگے تو ایک نا اُمید سی اُداسی میں گُم ہو جاتے ہیں۔ 
آئینے سے توجّہ ہٹا لیا کرتے ہیں۔
لیکن حقیقت اَب بھی نظر انداز ہے۔
رشتوں کی بے ثباتی اب تلک سمجھ نہ آئی۔
اب خواہشات یہ ہیں کہ ’اپنے‘ ارد گرد ہوں، اولاد آنکھوں کے سامنے نَظر آئے۔
وقت ہے کہ ختم ہوا چاہتا ہے پر زادِ راہ اب بھی نا مُکمل۔

یہ یوں تو نہیں، کہ ہم رشتوں کو نظر انداز کریں۔
اپنائیت اور اخلاقیات تو ہمارے ربّ کی اہم تلقین ہے۔
بس کچھ عُناصر رشتوں سے زیادہ پائیدارہیں۔
ہمارے وہ اعمال جو کہ ہم اپنے ربّ کی رضا اور اُس کی خُوشنودی کے حُصول کے لیے کریں۔ خواہ اپنے رشتے داروں کے لئے ہی کیوں نہ ہو۔
جب کہ دِل حالتِ تقویٰ میں ہو۔
خُوشنُودی صرف رَبّ کی مطلوب ہو۔ بس اور کچھ نہیں۔

ایّامِ زندگی کی ایک منزل جوا نی بھی ہے۔
یہ وہ ‘دور ہے جس کی قوت اور جاذبیّت کا احساس اِس کے بِیت جانے پر ہی ہوتا ہے۔
جوانی کی چال ہی کچھ اور ہے۔ اِس کا ایک مُنفرد نشہ ہے۔ 
نہ اس میں بچپن کی جاہلیت ہے اور نہ عمر رسیدہ ہونے کی لاچار دور اندیشی۔
یہ جسمانی جوبن کا وہ دور ہے جب ہر دیوار، کوئی پہاڑ ،محض ایک عبور ہو جانے والی 
رکاوٹ ہو۔
سوچ کی اڑان اتنی بُلند کہ ہر منزل قابلِ حصول۔ 
دِلوں میں وہ بھرپور ولولہ کہ ہر خواہش کے پیچھے ایک جان لیوا تمنّا۔
کیا خوب دور ہے جوانی کا اور کس بے رخی سے ہم ضیاں کر دیتے ہیں اس کا۔

پھر جسم خاموشی سے دغا کرنا شروع کر دیتا ہے۔
دِل کو احساس تک نہیں ہو پاتا۔ 
دِماغ کو شعور بھی نہیں ہونے دیتا۔
اور جب راستے میں پڑی ایک چھوٹی سی چٹان کو عبور کرنے کے لئیے اس کے گرد سے گھومنا پڑے، جب کسی عمارت کی سیڑھیاں چڑھنے سے پہلے ایک سوچ میں پڑ جائیں، تو دِل میں ایک حسرت بھری خواہش اُبھرتی ہے۔
اے کا ش وہ جوانی لوٹ آئے۔۔
ہم میں سے کچھ اپنی لاچاری میں پھر باقی ماندہ ‘زندگی گزارنے کے لئیے یا تو کسی چھڑی کا سہارا لے لیتے ہیں، یا پھر کسی قلم کا۔
کتنی مُطابقت ہے اس جوانی اور ہماری زندگی میں!
جب گزر جائے تب ہی احساس ہوتا ہے۔

حیاتِ جاویداں کی خواہش بھی انسان میں کِس قدر شدید ہے۔ 
شاید ہم نے اپنے ورثے میں یہی کچھ پایا ہے۔
ابلیس نے بھی تو ہمارے والدین کو اسی خواہش پر ڈگمگایا تھا۔
لیکن درازیِ عمر کی خواہش بھی بھلاوہ ہے۔ ایک سطحی آرزو۔
حقیقت یہ ہے کہ ہماری طلب محض زندگی کی نہیں بلکہ ایک بھر پور جوان زندگی کی ہوتی ہے۔ 
کیا ہم جسمانی لاچاری اور سوچ کی بے بسی کو بھی زندگی سمجھتے ہیں

ہم نے تو ادراک نہ کیا پر خالقِ کائنات کی حکمت مکمل ہے۔
اسی لیے نبی آخرُالزَماں کے ذریعے کیا خوب بشارت دی گئی۔
جنت کی دوامی میں ہم سب جوان ہی رہیں گے۔
بڑا حوصلہ ملا اس فرمان سے۔ 
بڑی تسکین ہے اس صداقت میں۔

آدم کو ایک جورو بھی عطا ہوئی اور دو باتیں نصیحت کی۔ ایک تنبیہ اور ایک ہدایت۔
انتباہ اس بات سے کیا کہ یاد رکھو شیطان تمھارا کھلا دشمن ہے۔
اور حکم یہ ملا کہ فلاں درخت کے پھل سے دور رہنا، اس کے پاس بھی نہ جانا۔
باقی ساری جنت تمھارے تصرف میں ہے۔

کتنے سادہ احکام تھے اور کمال سادگی سے بھلا دیے گئے۔
نہ جانے کیا ہوتا اگر وہ درخت پیدا ہی نہ کیا جاتا، شیطان کو جنت سے دور دھتکار دیا جاتا۔
پر زمین کے خلیفہ کا جنت میں کیا مقام۔
ابھی زندگی کے آبشاری دور بھی تو دیکھنے تھے۔

بچوں کی کتابوں میں تصویر بنانے کا ایک دلچسپ انداز ہوتا ہے۔
سادہ کاغذ میں کچھ نقطے، چند حروف پھیلے ہوتے ہیں۔ کچھ بن نہیں پڑتا۔
لیکن جیسے ہی ان حروف، ان نقطوں کو ملانا شروع کیا، تصویر ابھرنے لگی۔
آہستہ آہستہ ایک دلکش منظر تیار ہو جاتا ہے۔

زندگی بھی ایسے ہی ابھرا کرتی ہے۔
ایک غیر منفرد اور بظاہرغیر متعلقہ واقعہ ہوتا ہے او ر پھر اس سے کڑیاں ملنی شروع
ہو جاتی ہیں۔
یاریاں، دوستیاں، رشتے، اسی طرع حادثاتی ملاقاتوں پر قائم ہو تے ہیں۔
وہ نوجوان لڑکا جس نے اپنے کسی دوست یا عزیز کی محفل میں ایک دوشیزہ کو اتفا قاً دیکھا تھا، وقت کی کڑیاں ملاتا ہوا اُس کا شوہر اور پھر اُن بچوں کا باپ بن جاتا جو اس رشتے سے جنم لیتے ہیں۔ اور یہ سب مل کر ایک خاندان اور پھر ایک کُنبہ تشکیل دے دیتے ہیں۔
صرف ایک اتفاقیہ ملاقات سے۔
مگر شاید کارخانہ خدا میں کوئی چیز اتفا قاً نہیں ہوا کرتی۔
ہر نقطہ کسی بڑی تصویر کا ایک اہم رکن ہے۔

آدم کا قیام دنیا پر ہونا تھا۔ انسان نے جسم و روح کے ایک اور اہم دور سے گزرنا تھا۔
اس انسانیت کا مشترکہ اور اشخاص کا انفرادی امتحان ہونا تھا۔
ابھی تصویر نا مکمل تھی۔
بہت سے نقطے ملنے باقی تھے۔

یہ ہستی اور وجود کا نظام بھی خوب ہے۔
انسانیت کا سفر، چاہے وہ شخصی ہو یا اجتماعی، موت و حیات کے متعدد ادوار سے گزرتا ہے اور آج کی شعوری دنیا اس تسلسل کا ایک ادنیٰ مگر انتہائی اہم جزو ہے۔
یہ سب کچھ ایسا ہے کہ جیسے ایک دریا کوسوں دور سے بہتا چلا آرہا ہو اور دفعتا ً ایک مخصوص مقام پر ہنگامہ خیز آبشار میں تبدیل ہو کر دوبارہ خراما ں خراماں سمندر سے جاملے۔
دنیاوی زندگی وہ آبشار ہے جو ازل سے آتے ہوئے ہمارے وجود کے دریا کو ملتی ہے اور یہاں کی موت ہمیں ہمارے سفر ابد کی جانب رواں دواں کر دیتی ہے۔
فرق شائد صرف اتنا ہے کہ دریا اپنے اختتام پر فنا ہو جاتا ہے اور ہم نے اپنے سفر کا آغاز حالت فنا سے نکل کر کیا۔
ان مختلف ادوار سے گز رتے ہوئے کبھی تو ہمارے روح و جسم کی پرواز انفرادی ہوتی ہے تو کبھی یہ ضم ہو کے یک قالب یک جان ہو جاتے ہیں۔

جزا و سزا کا اطلاق ان اعمال پر ہوتا ہے جو ہمارے وجود کے آبشاری دور میں، روح و جسم کی یگانگت کے دوران ہوتے ہیں۔
جو عمل ہم یہاں کرتے ہیں وہ نہ صرف اس دور حیات میں قابل قدر یا مو اخذہ ہوتے ہیں بلکہ عہد ثانی میں بھی۔
اپنی زندگی کے آبشاری دور سے گرتے وقت ہم اُس پُر آشوب، پُر شور گھٹاؤ کی وجہ سے اپنے ماضی اور مستقبل سے منقطع ہو جاتے ہیں۔
اپنے اس دور میں محو، اپنے حالات میں گُم۔
جس طرع گندم کا دانہ چکی میں آنے کے بعد پِسے بغیر نہیں نکل سکتا، گنا بیلن میں جکڑے جانے کے بعد رَس بن کر ہی نکلتا ہے، اسی طرح اس آبشاری دور میں آنے کے بعد اب مرے بغیر کوئی چارہ نہیں۔

اس آبشار سے گرتا ہوا بشریت کا قطرہ بیک وقت دو منفرد صفات پر، دو مختلف محاذ پر
برسرِ پیکار ہوتا ہے۔
ایک عمودی اور ایک سطحی۔
سطحی طور پر ہم، انسانیت بحیثیت ایک مجموعہ، سرعت سے نیچے کی جانب غوطہ زن ہیں۔
اپنی اگلی منزل سے جا ملنے کے لیے۔
اد ھر نہ مذہب کی قید ہے اور نہ ہی جنس کی۔ ہم سب ایک ہیں۔
یہاں کا میزان انسانیت ہے۔
ایک ہی ابتداء سے شروع ہوتے ہوئے ایک ہی انتہاء کی جانب۔
جب تک اِس آبشار کو عبور نہیں کر لیتے، دریا میں تبدیل نہیں ہوں گے۔

عمودی پیرائے پر ایک بالکل ہی منفرد داستان ہے۔
یہ ہماری ذاتی زندگی ہے۔ ہمارے انفرادی اعمال کا مجموعہ۔
یہاں ہم اپنے اختیا ر کردہ اعتقادات اور اپنے معاشرتی اسلوب کے کلی طور پر
ذمہ دار ہیں۔
ہماری منزل اب بھی آبشاری دور کے اختتام کا وہ دریا ہے جو ہمیں ابد کے سفر پر گامزن کر دے گا مگر ہماری فوقیت یا تنزلی کا معیار ہمارے وہ ذاتی افعال ہیں جو ہم نے اس وجود میں کیے۔
اب جو چا ہے اس دورانیے میں اپنے کام سنبھال لے یا پھر ڈوب جائے۔
یہ تصور کر لینا کہ یہاں سے بہت آسائش سے گزر جائیں گے، سادگی ہی ہے۔

لیکن یہ اچھے برُے اعمال کی صلاحیت ہوتی کیوںکر ہے-
بذات ِخود روح تو وہ پاک اور معصوم ہدیہ ہے جو کہ رب العزت نے انسان کو عطا فرمایا اور تنہا جسم محض ایک تودہ۔
جب ان دونوں کا ملاپ ہوتا ہے تو جہاں زندگی کی ایک نئی روش قائم ہوتی ہے وہاں ایک تیسری قوت بھی جنم لیتی ہے جسے ” نفس” کہتے ہیں۔
یہ ایک طاقتور عنصر ہے اور جزاء و سزا کے تسلسل کی اہم کڑی۔
نفس تو وہ قوت ہے جس نے ہر ایک کو آزمایا، بہتوں کو بہکایا۔
جس نے نفس سنبھال لیا وہ کامران ہو گیا۔

روزمرہ کے مشاہدے میں اس کی مثال جوہری توانائی میں ہے کہ جہاں دو مختلف عناصر کی گلاوٹ ایک ایسی تیسری قوت کو جنم دیتی ہے جس کے قابو کرنے میں سہولتیں اور بے مہار چھوڑنے میں تباہی ہے۔
جس طرح جوہری توانائی کو ضبط کرنے کے لیے آ ہنی دیواروں اور محفوظ راستوں کا اہتمام ضروری ہے اسی طرح نفس کو قابو کرنے والی آ ہنی دیوار تقویٰ ہے اور اس کا مامون راستہ تنظیم میں پوشیدہ ہے۔

لفظ تقویٰ کو بھی نہ جانے کیوں محض خوف سے منسلک کر دیا گیا ہے حا لانکہ تقویٰ میں غالب عنصر پرہیزگاری کا ہے۔
تقویٰ تو ایک بیداری کی کیفیت ہے، اپنے رب کی جانب رجوع رہنے کا ایک
اختیاری احساس۔
بالکل ایسے ہی جیسے کہ ایک ماہی گیر سمندر کے وجود سے نہ تو غافل ہو سکتا ہے نہ بے پرواہ۔
ُاُس کی سواری، اُس کی غذا، یہاں تک کہ اُس کی رہائش بھی سمندرکے مزاج سے مطابقت رکھتی ہے۔

جیسے ہم نے لباس سے اپنا بدن ڈھانپ لیا اسی طرح تقویٰ ہمارے اندر کا ایک لبادہ ہے۔
جس طرح غذا ہمارے جسم کو طاقت عطا کرتی ہے اور ہم توانا ہو کر زندگی کی راہ داریوں پر گامزن ہو جاتے ہیں اسی طرح تقویٰ ہمیں وہ اندرونی طاقت حاصل کرنے کا سبب بنتا ہے جس سے ہم اپنے نفس کے بے مُہار وحشی کو نتھ ڈال دیتے ہیں اور شیطان کی سرائیت کو محسوس کرنے کا شعور پا لیتے ہیں۔

تقویٰ کی ابتدا ء ‘لحاظ ‘ میں ہے۔
وہ لحاظ، وہ ‘رواداری، جو کہ ایک شخص اپنے سابقہ استاد کو دیکھ کر احتراماً کھڑا ہونے سے ظاہر کرتا ہے۔
اور اس کی معراج خوفِ خدا ہے۔ اِس پہاڑ کی چوٹی۔
رواداری اور پرہیزگاری تو ہر شخص اپنا سکتا ہے لیکن خوفِ خدا کے لیے ‘ایمان ‘ شرط ہے۔

ہم نہ جانے کیوں نظرانداز کر دیتے ہیں کہ تنظیم اور تقویٰ بہت فطری عمل ہیں، ایک کی کیفیت ظاہری ہے تو دوسرے کہ باطنی۔
کائنات کا نظام تنظیم کے بغیر چل نہیں سکتا اور تنظیم اپنانے کے لئیشعوری طور پر حکم خداوندی پر مرکوز ہونا ضروری ہے۔
مگر ہم میں سے اکثر اس زندگی کی گہماگہمی میں بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔
اس بات کے بھی روادار نہیں کہ رب العزت کی جانب سے خلافت ملنے کا مقصد اس نظام کو تقویت دیتا ہے، نہ کہ انتشار برپا کر دینا۔
شائد اس دنیاوی زندگی میں اِن کو اختیاری بنا کر ہمارا امتحان لینا مقصود ہے۔

دُنیا میں ہماری موت و حیات کا نظام بھی سبق آموز ہے۔
سارے رشتے ناطے اس نظام کے ہی بدولت ہیں۔
اولاد پیدا ہوتی ہے اور رشتے جڑ جاتے ہیں، جو تا حیات قائم ہیں۔
پھر جب موت واقع ہوئی تو سب کچھ چھوٹ جا یا کرتا ہے۔
آ گے تنہائی کا سفر ہے۔
اپنے اعمال اور خود وہ شخصیت، کوئی کسی کے کام نہیں آنا۔
وہی افسُردہ ’پیارے‘ قبر میں اُتار دیتے ہیں۔
وُہی پُر نم آنکھیں تنہا چھوڑ جاتی ہیں۔
کیا ہی ضروری ہے کہ ہم اِس حقیقت کو تھام لیں۔ اپنی تنہائی کے اِس طویل سفر کے زادِ راہ کا بندو بست کر لیں۔
لیکن ہماری تخلیق جِس خاک سے ہوئی، اس دُنیا کی مٹی میں شاید بڑی اپنائیت، بڑی جاذبیّت ہے۔
اس کی رنگینیاں آنکھوں کو تو مُوہ لیتی ہیں، پر دِل اکثر ویران ہو جا یا کرتے ہیں۔
ہم بھول جاتے ہیں۔

جِس طرح گردشِ دُنیا کے واقِف ہوتے ہوئے ہم اِس کا ادراک نہیں رکھتے، اسی طرح گردشِ زماں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
یہاں تک کہ تنہائی کے سفر کا وقت آ پڑتا ہے۔
روح و جسم کا تعلق ایک بار پِھر مُنقطع ہو نے پر سب رشتے، تمام رونقوں کا بار اتار دیا
جاتا ہے۔
سرابِ دُنیا کی حقیقت کُھل جاتی ہے، پر بہت دیر سے۔

ہم میں کچھ وہ ہیں کہ جب اُن کے بالوں میں سفیدی نمایاں اور جِلد کا کھچاؤ ماندہو کر جُھریوں
میں تبدیل ہونے لگے تو ایک نا اُمید سی اُداسی میں گُم ہو جاتے ہیں۔
آئینے سے توجّہ ہٹا لیا کرتے ہیں۔
لیکن حقیقت اَب بھی نظر انداز ہے۔
رشتوں کی بے ثباتی اب تلک سمجھ نہ آئی۔
اب خواہشات یہ ہیں کہ ’اپنے‘ ارد گرد ہوں، اولاد آنکھوں کے سامنے نَظر آئے۔
وقت ہے کہ ختم ہوا چاہتا ہے پر زادِ راہ اب بھی نا مُکمل۔

یہ یوں تو نہیں، کہ ہم رشتوں کو نظر انداز کریں۔
اپنائیت اور اخلاقیات تو ہمارے ربّ کی اہم تلقین ہے۔
بس کچھ عُناصر رشتوں سے زیادہ پائیدارہیں۔
ہمارے وہ اعمال جو کہ ہم اپنے ربّ کی رضا اور اُس کی خُوشنودی کے حُصول کے لیے کریں۔ خواہ اپنے رشتے داروں کے لئے ہی کیوں نہ ہو۔
جب کہ دِل حالتِ تقویٰ میں ہو۔
خُوشنُودی صرف رَبّ کی مطلوب ہو۔ بس اور کچھ نہیں۔

ایّامِ زندگی کی ایک منزل جوا نی بھی ہے۔
یہ وہ ‘دور ہے جس کی قوت اور جاذبیّت کا احساس اِس کے بِیت جانے پر ہی ہوتا ہے۔
جوانی کی چال ہی کچھ اور ہے۔ اِس کا ایک مُنفرد نشہ ہے۔
نہ اس میں بچپن کی جاہلیت ہے اور نہ عمر رسیدہ ہونے کی لاچار دور اندیشی۔
یہ جسمانی جوبن کا وہ دور ہے جب ہر دیوار، کوئی پہاڑ ،محض ایک عبور ہو جانے والی
رکاوٹ ہو۔
سوچ کی اڑان اتنی بُلند کہ ہر منزل قابلِ حصول۔
دِلوں میں وہ بھرپور ولولہ کہ ہر خواہش کے پیچھے ایک جان لیوا تمنّا۔
کیا خوب دور ہے جوانی کا اور کس بے رخی سے ہم ضیاں کر دیتے ہیں اس کا۔

پھر جسم خاموشی سے دغا کرنا شروع کر دیتا ہے۔
دِل کو احساس تک نہیں ہو پاتا۔
دِماغ کو شعور بھی نہیں ہونے دیتا۔
اور جب راستے میں پڑی ایک چھوٹی سی چٹان کو عبور کرنے کے لئیے اس کے گرد سے گھومنا پڑے، جب کسی عمارت کی سیڑھیاں چڑھنے سے پہلے ایک سوچ میں پڑ جائیں، تو دِل میں ایک حسرت بھری خواہش اُبھرتی ہے۔
اے کا ش وہ جوانی لوٹ آئے۔۔
ہم میں سے کچھ اپنی لاچاری میں پھر باقی ماندہ ‘زندگی گزارنے کے لئیے یا تو کسی چھڑی کا سہارا لے لیتے ہیں، یا پھر کسی قلم کا۔
کتنی مُطابقت ہے اس جوانی اور ہماری زندگی میں!
جب گزر جائے تب ہی احساس ہوتا ہے۔

حیاتِ جاویداں کی خواہش بھی انسان میں کِس قدر شدید ہے۔
شاید ہم نے اپنے ورثے میں یہی کچھ پایا ہے۔
ابلیس نے بھی تو ہمارے والدین کو اسی خواہش پر ڈگمگایا تھا۔
لیکن درازیِ عمر کی خواہش بھی بھلاوہ ہے۔ ایک سطحی آرزو۔
حقیقت یہ ہے کہ ہماری طلب محض زندگی کی نہیں بلکہ ایک بھر پور جوان زندگی کی ہوتی ہے۔
کیا ہم جسمانی لاچاری اور سوچ کی بے بسی کو بھی زندگی سمجھتے ہیں

ہم نے تو ادراک نہ کیا پر خالقِ کائنات کی حکمت مکمل ہے۔
اسی لیے نبی آخرُالزَماں کے ذریعے کیا خوب بشارت دی گئی۔
جنت کی دوامی میں ہم سب جوان ہی رہیں گے۔
بڑا حوصلہ ملا اس فرمان سے۔
بڑی تسکین ہے اس صداقت میں۔

Close Menu