قصہ ایک میثاق کا

خلافت

تشکیل کا مر حلہ مکمل ہونے سے قبل ہی سببِ تخلیق یہ بیان ہوا کہ زمین میں اپنا نائب مقرر فرمانا ہے۔
رَب کے آگے تو سب بے بس اور لاچار ہوتے ہیں۔ 
فرشتے اپنی تمام تر قوت کے باوجود بے اختیار بھی تھے۔
مو دبانہ گزارش کی کہ یا رب، ہم تو آپ کی بارگاہ میں حمد و عبادت کرتے رہتے ہیں، اور یہ زمین میں خون و فساد برپا کر دیں گے۔
پر مالک تومالک ہے۔ جو چاہے سو کرے۔۔۔ 
تمامِ حُجت کے لیے فیصلہ علم کی کسوٹی پر ٹھہرا دیا۔ 
کہنے والے کہتے ہیں کہ علم نے عبادت پر سبقت حاصل کر لی۔
یہ علم اور عبادت کا موازنہ بھی دلچسپ ہے۔ شاید ہم سادہ لوحی میں سطحی نتائج پر راغب ہو جاتے ہیں۔

بندگی میں عبادات کا مضمون اختیاری نہیں۔
بالکل ایسے ہی جیسے کہ چوراہے کی سبز بتی کو دیکھ کر ہم چل پڑتے ہیں اور سرخ بتی پر رکنا ایک حقیقت ہے۔
اس قانون کی پاسداری پر نہ ہمیں کسی تمغے کی توقع ہوتی ہے، نہ کوئی سپاہی ہمارا شکر گزار۔ البتہ اس نظام کی خلاف ورزی پر ہمارا احتسابی چالان ہو جاتا ہے۔
یہی اصول عبادت کا ہے۔ 
یا ہم اُس کی مملکت سے باہر نکل جائیں اور یا پھر اُس کی بندگی کریں۔ اس کے علاوہ تمام راستے یا تو غفلت کے ہیں یا پھر سرکشی کے۔
فرشتوں، جنات، انسان اور باقی تمام مخلوقات پر اپنی اپنی استطا عت کے مطابق عبادت کرنا فرض ٹھہرا۔ یہ نہ صرف آدابِ غلامی ہیں بلکہ امتیازِ عبدیت بھی کہ ہم اس مالک حقیقی کے ُرو برُو اپنا سر خم کر لیں۔

عبادات کا موازنہ عمراور یکسوئی سے ہے۔
جس نے جتنی عمرپائی، اْسی کی مناسبت سے عبادت کا وزن قرار پایا۔
البتہ یکسوئی ایک اور دنیا ہے۔ اِس میں عمر اور تعداد کی کوئی قید نہیں ہے۔
یہ عبادت کی نفیس کیفیت ہے جس کا ایک لمحہ برسوں پر بھاری پڑ جاتا ہے۔

جب عبادات کے میزان میں توازن آیا تو علم کے ترازو تولے گئے۔
علم ایک زانوںپہ دھری کسی کتاب کا نام نہیں۔
علم تو وہ سمندر ہے جس کی گہرائیاں بہت عمیق اور سواحل سطحی ہیں۔
ملائیکہ کے پاس بھی علم تھا۔ 
انھوں نے بھی تو زمین پہ خون خرابے کی پیش گوئی کر دی تھی۔
شاید زمان و مکان کے سلاسل سے بے نیاز جس مقام پر وہ کھڑے تھے وہاں سے انہیں مستقبل اتنا ہی واضح نظر آ گیا جتنا کہ ماضی نمایاں تھا۔
کیوں کہ جب ادوار کی قید نہ ہو تو ہر سو ایک میدان ہی ہوتا ہے۔

لیکن کچھ باتیں رازو نیاز کی بھی ہوتی ہیں۔ 
علم کے کچھ رموز ایسے بھی ہیں جن کی حقیقت کو اکثریت سے پوشیدہ اور مخصوص چند پر عیاں کیاگیا ہے۔
اِس مخصوص مجلس کے اکا برین پر وحی آیا کرتی تھی اور اِس گروہ کے “عوام” اپنی تمام تر دانش کے باوجود الہام کے منتظر رہتے ہیں۔

مالک آخر مالک ہے۔ جسے چاہے اپنا نائب مقرر کر لے۔
آدم صاحب وحی بن گئے۔ اپنی اولاد سمیت زمین پر خلیفہ مقرر ہوئے۔
عزازیل نے یہ منظر بے کسی سے دیکھا۔ 
!س کے دل میں ایک خلش سی ابھری:
کیا اس اعزاز کا میں زیادہ حقدار نہ تھا
آج بہت عرصے بعد اس کے اندر سے ابلیس نے سر ابھارا۔

آآدم جوش انتخاب میں سرشارتھے۔
انہیں کیا خبر کہ یہ منصب اولادِ آدم پر کتنا بھاری ہو گا

Close Menu