قصہ ایک میثاق کا

لمحہ فکر

انسانیت کے ادوار میں ایمان کی کیفیت منفرد رہی۔
ہر عہد کے دوراہے پر ہم انسانوں اور اہل ایما ن کے گروہوں میں بٹے رہے ہیں۔
کچھ ادھر، کچھ اُدھر۔

جہاں انسانیت بہت مُعتبر ہے وہاں اہل ایمان انتہائی ممتاز۔ 
دراصل ایمان کے ذریعے ہی تو بشریت اپنے معراج کو پہنچتی ہے-
اس تمیز کا فقدان ایمان والوں کے لیئے لمحہِ فکریہ ہے۔

اژدہام نے بذات خودکبھی معراج حاصل نہیں کی؛
وہ اہلِ ظرف ہیں جنہیں یہ کام سونپاگیا۔
جب تلک اہل ایمان نے علم اور عمل کو ہم آہنگ کیا تو انسانیت نے فلاح پائی۔
ایک مختصر سے گروہ نے ایک مجموعے کو بلندی تک پُہنچایا۔
یہی ہمارے انبیا ء کی میراث ہے۔
انہی کی تعمیر شدہ اساسوں پر انسانیت کے ترقی کی شاہراہیں قائم ہوئیں۔

پھر جب ہم سے علم چھوٹا تو انسانیت نے بھی اپنے بنیادی اقدار کو خیر آباد کہہ دیا۔
جینے کا فن “اپنی ذات، اپنا مفاد” کا نام بن کر رہ گیا۔ 
شعورِ زندگی فقط دورانِ دنیا تک محدود ہو کر رہ گئی۔
نہ آگے کا بندوبست، نہ پیچھے کا خیال۔
کیا حیوان بھی یہی کچھ نہیں کرتے!

ایمان سے بے اعتنائی کی خلاء نے غفلت زدہ روایات کوفروغ دیا۔
سفارت کاری نے ‘فراست’کی جگہ لے لی، ’حکمت‘ مُتبادل علاج کے طریقے پر محدود کر دی گئی۔ مصلحت نے دور اندیشی کا مقام حاصل کر لیا۔
کیا غضب ڈھایا اہل ایمان کی اس بے رُخی نے!
ٍہم بھول گئے کہ ہم جوابدہ ہیں! 
ایک جلیل القدر کی عدالت کا سامنا ابھی باقی ہے۔
ہمیں یاد نہیں کہ خلافت کی ایک ذمہ داری بھی ہے۔
وہ مُتقی دل کہاں گیا، اُس مُنظم معاشرے کا کیا بنا!

وقت وہ سرمایہ ہے جس میں پائیداری نہیں۔
جوں جوں بیتتاہے، ختم ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔
اس خزانہ میں نہ وفا ہے اور نہ ہی کُشادگی۔ نہ کوئی اس کا اپنا ہے، نہ کوئی پرایا۔
بالکل اُس سِکّے کی مانندجو ہاتھوں ہاتھ منتقل ہوتا چلا جاتا ہے۔
آج اِس ہتھیلی میں، کل اُس مُٹھی میں۔
وقت کا ضیاں اتنا ہی افسوسناک ہے جتنا کہ صحرا میں کسی پیاسے کے پانی کا
گر جانا۔

غلامی جسم کی نہیں، ذہنوں کی ہوا کرتی ہے۔
اہل ایمان تو پابند ِسلاسل ہوتے ہوئے بھی آزاد اُڑا کرتے ہیں۔
پر بات ساری شعور کی ہے۔
اور شعور کے لیئے چند لمحاتِ تنہائی درکار ہیں۔ 
کچھ ذہن کی یکسوئی، کچھ دِل کی خلش مطلوب ہے۔

پھر قومیں بیدار ہو جایا کرتی ہیں۔
پھر کوئی مسیحا بھی بھیج دیا جاتا ہے۔

Close Menu