قصہ ایک میثاق کا

میثاق

عجیب ہونی انہونی سی کیفیت تھی وہاں۔
جسم کے خدوخال نمایاں نہ تھے۔ نہ رنگ، نہ نسل۔ 
پَر حقیقت تمام تھی۔
میرے آگے جمِ غفیر تھا۔ تا حدِ نظر لوگ ہی لوگ۔
مجھے انبیا ء و اولیاء نظر آئے۔ مجھے اپنے جدو امجد نظر آئے۔
میرے ساتھ میرے ہم عصر تھے۔ دائیں بائیں ایک بہت بڑی دنیا۔
اور میری پشت پر میری نسلیں۔
میں نے مڑ کے پیچھے دیکھا۔ اشتیاق سے، پیار بھری نگاہوں سے۔ 
میرے بچے واقعی بہت پیارے تھے۔ خوبصورت، شاداب چہروں والے۔
ہشاش بشاش مسکراہٹ لیے ہوئے۔
میں نے اپنی گردن تھوڑی سی اور بلند کی۔ صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ ان کی تعداد کیا ہے۔
مجھے زیادہ کوشش نہیں کرنی پڑی۔ 
میری اولاد، میرے اکابرین و اجداد سے بہت کم تھی۔
قیامت اور مجھ میں زیادہ فاصلہ نہ تھا۔

لیکن اس بات نے مجھے افسردہ نہ کیا۔ یہ مقام تھا ہی ایسا جہاں اداسی نہ تھی۔
وہاں روشنی تھی تپش نہیں۔ وہاں سکوں تھا سرد مہری نہیں۔
یہ یومِ میثاق تھا۔
عالمِ ارواح میں اولادِ آدم کا ایسا یکتا ہونا بھی ایک منظر تھا۔
اب اس کے بعد روزِ محشر ہی ہمیں جمع ہونا ہے۔

پھر فضاﺅں میں خوشبو چھا گئی۔ ہر سُو نور کا ایک سکوں آگیا۔
دلوں میں، فضاﺅں میں، کہکشاﺅں میں ایک شفقت سے سرشار، ایک حُرمت بھری 
آوازابھری:کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟

میری جان قربان میرے رب، یہ تو نے کیا سوال کیا!
کیا کائنات کا ذرہ ذرہ گواہی نہیں دے رہا!
کیا میری روح کا انگ انگ تیری بندگی پر فخر نہیں کرتا!
انسانیت یک زباں ہو گئی۔ متحد ہو گئی۔
یقینا ً ہمارے رب، تُو ہی ہمارا پروردگار ہے!
ہماری ہم آہنگی ایک میثاق بن گئی اور ہم خود اپنے ہی عہد کے گواہ ٹھہرائے۔

اولادِ آدم اس کے بعد پھر کبھی ایک بات پر متحد نہ ہوئی۔
ہم نے حیات و موت کے مراحل اپنے اپنے ادوار میں طے کیے۔
ہم نے قیامت کا اژدہام گروہوں میں بٹ کے کاٹا۔
ہم نے جنت و دوزخ کا مقام ٹولیوں میں پایا۔
دوبارہ انسانیت متحد نہ ہوئی۔

جانے کا وقت ہو گیا۔
پُر سکوں نگاہوں سے میں نے ایک نظر اُفق پہ ڈالی۔ فرشتوں اور جنات کی قطار کی جانب۔
کچھ چہرے مجھے جانے پہچانے لگے۔ 
ان میں سے ایک چہرہ سوچ میں ڈوبے ہوئے عزازیل کا بھی نظر آیا۔
وہ حیرت زدہ کھڑا تھا کہ یہ ماجرا کیا ہے، یہ میثاق کیوں ہے!

تعجب، اچنبھا تو وہاں ہوتا ہے جہاں صرف منطق ہی معیار ہو۔
اسے پتا ہونا چاہیے تھا کہ اِس دربار میں تو اُسی پلڑے پہ معجزے اور کرامات بھی تُلتے ہیں۔
مجھے اُس کی حیرت پر حیرانی ہوئی۔

Close Menu