قصہ ایک میثاق کا

پیام بر

یہ معرکے ایک مستقل جدل بن گئے۔
ہم میں کا ہر شخص اس کا سپاہی ہے۔ کوئی اِ س جانب سے، کوئی اُس جانب سے۔

کہتے ہیں کہ جنگ کی بھی اپنی ایک دھند ہوتی ہے۔ کبھی کبھار اپنے پرائے کی تمیز مٹا 
دیا کرتی ہے۔
یہ ہمیں کیا بتاتے ہیں! ہم سے ہی تو یہ کتاب لکھوائی گئی۔ 
ہم ہی اِن اسباق کے کاتب ہیں۔
اگر اپنے پرائے کی تمیز ہو جاتی تو ہا بیل و قابیل کے نام کب ٹھہرتے!
یوسف، بھائیوں کے ہاتھوں کوڑیوں کے دام نہ بکتے۔
اہلِ یثرب اہلِ نبی ہونے کا شرف حاصل نہ کرتے۔
کربلا محض ایک شہر کا نام ہوتا۔
آج ہم یوں تِتر بتر نہ ہوتے۔
یہ جنگ کی دھند ہی تو ہے کہ اُمتیں فرقوں میں بٹ گئیں۔ ہر کوئی اپنے مذہب اور مسلک کی جدا گانہ تشخص پر سختی سے عمل پیرا۔

یہ مذاہب میں منتشر ہونے میں انسانیت کی کمزوری کے علامات ہیں۔ 
اولادِ آدم کی تذلیل اور شیطانیت کی ایک اور کامیاب چال۔
جب ازلی پیغام ایک تھا اور ابدی ہدایت ایک ہی رہے گی تو ہم کہاں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ 
!جتنے منہ اتنی باتیں

حق و باطل کے معرکے تو بشر اور شر کے درمیان تھے۔ یہ جنگ کی دھند ہی تو ہے جس میں وہ شر تو اپنے آپ کو اوجھل و مخفی کر گیا اور بشر، بشر پر پل پڑا۔ 
ہر سُو انتشار برپا ہو گیا۔

انتشار تباہی کا پیش خیمہ ہے، بذاتِ خود یہ ایک مستقل کیفیت نہیں۔
اسلوبِ زندگی میں یہ ایک محرک ہے نہ کہ منزل۔
لیکن ابلیس کے عزائم میں اس کی اہمیت غالباً اتنی بلند ہے کہ شورش کو قائم کرنا بھی اس کی ایک اہم آرزو، ایک فیصلہ کُن حاجت کی صورت میں رہتی ہے۔

!یہ قوم نوح کیا تھی
تارہخ تو ہمیشہ اپنا بھرپور دفاع کیاکرتی ہے پھر یہ کیا ہواکہ طوفان نوح کے شواہد تو دنیا کے ہر گوشے سے ملتے گئے، پر قوم نوح پر بالکل خاموشی
انسانیت کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے کچھ تو اسباب ہوں گے۔محض ایک علاقائی قوم تو یوں ہی تباہ کردی جاتی ہے۔

لگتا کچھ یو ں ہے کہ اس معتوب قوم کی کوئی بہت بڑی سلطنت ہو گی۔
!ان میں ہیبت ناک سرکشی ہو گی
دنیاکے کونے کونے میں اُن کا تاج ہو گا۔
ان کی فتوحات کا ذریعہ، ‘ اس قوم کابحروں پر راج ہو گا۔
شاید اسی وجہ سے اُن سمندروں کےذریعے ہی انہیں غرق کر دیاگیا

نہ جانے اس قوم کے رسول نے کہاں کہاں سفر کیا ہو گا۔
اس سلطنت کے طول و عر ض کو سماتے سماتے دنیا کا ہر گوشہ دیکھا ہو گا۔
لگ بھگ ہزار سالوں میں کتنی ہی نسلوں کو بیتا ہوگا
اس قوم کو نمود سے لے کر، پُر ہیبت سلطنت کی تکمیل تک کا بے تاب نظارہ کیاہو گا۔

مشاہدہ تو کہتا ہے کہ دنیاوی سلطنتوں کے ادوار دو ڈھائی سو سالوں پر محیط ہوا کرتے ہیں۔
یہ کیا بلا تھی کہ ہزار سالوں تک چھائی رہی! اپنے دور کی ایک جابر اور واحد سلطنت بن گئی۔
رب العزت نے تو دنیا میں انسانوں کو بسایا تھا۔
خلافت کا علمبردار، ایک خوبصورت آباد کار بنایا تھا۔
کچھ تو ہو گاکہ بساط پلٹ دی گئی۔سرکشی اور ظلم کا نشان تک مٹا دیا گیا!
رسول کو عمرطویل دے کرحجت تمام کی۔
طوفاں نوح بھیج کر قصہ مکمل کیا۔

ہمیں وہ عظیم سیلاب تو آج بھی یاد ہے۔
کیا کبھی اُس قوم کی کوئی باقی ماندہ آہٹ بھی سنائی دی
تاریخ کبھی یوں بھی گمنام کیا کرتی ہے
!جتنی بڑی سرکشی، اُتنا ہی سناٹا

رَبُّ العزت کی نگاہ میں خلفشاری بہت معیوب ہے، اسی لیے جب فتنہ و فساد عام ہو جائے تو 
وہ اس کا سدِ باب کرنے کے لیے انسانوں میں سے ہی اپنے انبیا ء مقرر فرما دیتا ہے۔
رسول و نبی ایک منادی کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ رب العا لمین کے معتمد ایلچی۔
یہ انبیاء ہی ہیں جو ہمیں اس جنگ کی دھند میں بھی راہ دکھاتے ہیں، اپنے پرائے کی تمیز کرا دیتے ہیں۔ 
یہ رسول ہی ہیں جو نہ صرف راہنمائی کرتے ہیں بلکہ لائحہ عمل بھی واضح کر دیتے ہیں۔

مگر یہ کون سی چیدہ ہستیاں ہیں جو اتنا بڑا منصب پاتی ہیں!
مالکِ حقیقی کے پیامبر۔ خا لقِ کائنات کے منظورِ نظر
حیران کُن مجموعہ ہے یہ انسانیت کا۔
کسی کے آباو اجدا د میں نبوت چلی آ رہی ہے تو کوئی منفرد شخصیت اِس کا اہل قرار پاتا ہے۔
کسی کو دورانِ سفر یہ شرف حاصل ہوتا ہے تو کوئی ماں کی گود میں ہی با کرشمہ رسول کے عہدے پر فائز ہو جاتے ہیں۔
کسی کو بادشاہت میں نبوت حاصل ہوتی ہے تو کوئی فکر و فاقہ میں بھی رب کی پیامبری کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ 
کسی سے جب پہلی مرتبہ خطاب ہوتا ہے تو کوۂ طور سے فرار کی ٹھا ن لیتا ہے تو کوئی غارِ حرا سے نکل کر کملی اوڑھ لیتے ہیں۔

لیکن ایک قدر سب میں مشترک ہے۔
نبوت سے پہلے ہی ان سب کا ذاتی کردار اتنا عالی ہوتا ہے کہ سب اِس کے معترف ہیں۔
ایک نے زلیخا کی شہوت سے بچنے کے لیے قید خانے کو ترجیح دی تو دوسرے کا لقب ہی
صادق و امین مقرر ہوا۔
پھر ان انبیاء میں بھی درجے قرار دیے گئے۔
کوئی زیادہ مقرب ہے تو کسی کے رجوع رہنے کی خدا نے بھی گواہی دی۔
کسی کو خلیل کے لقب سے نوازا گیا تو کوئی ذبیح کے نام سے زندہ جاویداں رہے۔

یہ خلیل و ذبیح کا واقعہ بھی دہلا دینے والا ہے۔ 
رات کے کسی پہر ایک برگزیدہ نبی کی آنکھ کھل جاتی ہے۔
ایسے خواب کا مشاہدہ ہوا جس نے نیند اُڑا دی۔ 
ایک عمر رسیدہ رسول کو اپنے جواں سال بیٹے کی قربانی کا حکم ہوا۔ 
نہ جانے یہ امتحان تا بعداری کا تھا یا عشقِ خدا وندی کا!
دونوں ہی خاصیتیں اس نبی میں موجود ہیں۔

لیکن کیا یہ وہ نہیں جنھوں نے نو جوانی میں منطق کے ذریعے اپنے رب کی تلاش کی
کیا وہ آفاق میں، سورج، چاند، ستاروں میں اپنے خالق کو ڈھونڈتے نہیں رہے!
پھر یہ منطق اور عشق کا جوڑ کیسا!
عقل و منطق تو بہت ٹھہراؤ کی راہ لیتے ہیں۔ ان پر سوجھ بوجھ اور سمجھ داری کا قبضہ ہے۔ 
اور عشق! 
عشق تو بے چارگی اور بے قراری کا نام ہے۔
اپنی جان سے منقطع، لوگوں کی لعن طعن سے بے نیاز
اپنے معشوق کے ہر حکم پر فروختہ، اس کے ہر اشارے پر ناچتا ایک دیوانہ۔ 
منطق کی معراج یہ ہے کہ آپ مدّلل اور معقول طریقے سے اپنی منزل کو پا لیں۔
ایک خوبصورت انجام!
اور عشق کی انتہاء اس میں ہے کہ معشوق بھی عاشق بن جائے۔ 
دونوں ایک دوجے پر واری، ایک دوسرے کے ہاتھوں مجبور و لاچار۔ 
ایک حسین کیفیت!
کیا ہی خوب ہوا جو منطق اپنے انجام میں عشق پر پہنچا۔

جب رب نے اولاد کا نذرانہ طلب کیا تو باپ کے ہاتھ تو یقیناًلرزے ہوں گے لیکن نبی کا دل قابو میں رہا۔ 
عقلِ سلیم تو چیخ چیخ کر مانع ہو گی پر عاشق کے لب پر صرف رضا کی طلب رہی۔
فرشتے، جن کا اسلوب ہی بردباری، متانت اور جانثاری تھا، بے تاب محو تماشہ ہوگئے اور رب بذ اتِ خود اس کا گواہ!
کیا یہی تو وہ مقام نہیں جہاں عاشق اپنی معراج کو پہنچا اور معشوق نے اپنے اوپر عشق کی کیفیت طاری کر لی!

لیکن اس تمام داستان میں ہم اس نو نہال سے ذبیح کو کیوں بھول گئے جو نہ منطق کا شیدائی تھا
نہ عشق کا متوالا۔
تا بعداری کا ایک انمول مجسمہ۔
جس نے باپ کے خواب کے آگے اپنی قربانی پیش کی۔ 
جس نے اپنے مقتل کی طرف نکلتے پہر اپنی والدہ کی جانب مسکرا کر دیکھا ہو گا۔
اُس ماں سے بھی راز مخفی رکھ گیا جس نے اسینئے کپڑے پہنائے!
جس کے نازک و ناتواں بدن کے نیچے کنکریوں کی چبھن کی ٹھیس تو تھی لیکن وہ ‘ والد کو
ترغیب دے گیا کہ میرا چہرہ اپنی نگاہوں سے پرے، زمین کی جانب کر دینا مبادہ شفقتِ پدری میں نبی حکم خدا وندی سے چوک نہ جائے۔
جس نے اپنی گردن پر اپنے باپ کے نرم اور پسینہ آلود ہاتھ میں لوہے کی ایک تیز اور ٹھنڈی دھار محسوس کی ہو گی۔
جس نے اپنی تابعداری میں آنکھیں بند اور دانت بھینچ لیے ہوں گے!

بہت عظیم امتحان تھا وہ۔
بہت لاچار تھا اُس دن وہ باپ اور وہ بیٹا!

لیکن ذرا ٹھہرئیے، اِس خاندان کا تو ‘رْوپ ہی نرالا ہے-
یہاں تو ایک خاموش سی خاتون بھی معراج کی حدوں کو چھو رہی ہے۔
ایک ایسی بیوی جو اپنے شوہر کے کہنے پر اپنے معصوم سے بچے کو گود میں رکھے، تنہا ایک 
بیابان میں رہ گئی-
نہ اْس شوہر کاساتھ اور نہ ہی اپنے خاندان کا

یہ صفا اور مروا کی پہاڑیاں اتنی آسان تو نہ تھیں جتنی کہ آج ہیں-
وہاں توسلگتے پتھروں اور تپتی ریت کے نشیب وفراز کے اوپر آگ اْگلتاسورج جان لینے کا درپے ہوا کرتا تھا-
جہاں سایہ نہ ہونے کے باعث دن اور رات، دونوں ہی انسان کے جسم سے جان نچوڑ لیا کرتے تھے۔
جہاں نہ تو کسی قسم کی خوراک کا انتظام تھا اور نہ ہی پانی کی ایک بوند کا۔
اور وہ خاتون اْس بیابان میں اپنے لختِ جگر کو گود میں رکھے تنہا رہ گئیں!

مائیں تو اپنی اولاد کی ذرا سی تکلیف میں تڑپ جایا کرتی ہیں۔ 
کیا ہر ماں کی طلب پر اِسی طرح نوازا جاتا ہے
وہ کیا یقین تھا کہ ایسے خشک سال بیابان میں وہ پانی کی تلاش میں نکل پڑیں!
کچھ اور ہی تھا جس کا اتنا عظیم بھرم رکھا گیا۔

شاید صرف اپنے شوہر کی تابعداری ہی اْس کا وصف نہ تھا-
بہت توکل ہو گا اْس دوشیزہ کا اپنے رب پر بھی-
کہیں یہ تو نہیں کہ یہی وہ توکل تھا جس کا رب العزت کے دربارمیں اعتراف کیا گیا۔
ہم سعی کے پابند ہو گئے، ہمیں زم زم کا حقدار بنا دیا گیا۔
کچھ تو وجہ ہو گی کہ جب کوئی حج و عمرہ کے لئے خانہ کعبہ کا رْخ کرے تو رب العزت نے اِن دو پہاڑوں کے درمیان، اْسی بیقراری میں سعی کرنے کی ہدایت فرما دی
اْس خاتون کے قدم سے ہمارے قدم مِلا دئیے
آج ہم آبِ زمزم میں سے کتنی آسانی سے اپنا اپنا حصہ لے لیتے ہیں-
آفرین ہے اْس ماں پر جس کے طفیل ہمیں یہ راحت میسر ہوئی-

رب کا ظرف بہت عالیٰ ہے۔ وہ حاضر و پوشیدہ کا قدر دان ہے۔
ہم تو بھول گئے پر اُس نے اسمٰعیل کو نبوت سے نوازا۔
اُس لڑکے کی وفاداری کو ہمیشہ سرفراز کرنے کے لیے اُس کی اولاد میں سے نبی آخرالزمان کو پیدا کیا۔
باپ کی سنت میں عیدِ قرباں رائج کی اور ماں کی قدر میں حج و عمرہ کے ارکان متعین کر دئیے۔
کیا خوب عشق تھا وہ۔
!کیسا کمال منطق ہے یہ

نبی آخرزمان کا عہدہ بھی غیر معمولی ہے۔
جب دنیا کی آبادی کم تھی تو انبیاء کی بھرمار نظر آئی۔ 
اب جبکہ انسانیت کا انبار لگا ہوا ہے تو پیامبر ندارد۔ 
غالباً اس کی وجہ انبیاء کے نزول کا بنیادی اصول ہے۔
نبی کا کام پیغام پہنچانا ہے۔ 
مالک حقیقی کی عطا کردہ راہنمائی کی طرف لوگوں کی تلقین کرنا۔
اور پیغام رسانی ذرائع ابلاغ سے ہوا کرتی ہے۔ 
جوں جوں انسانیت میں ابلاغ کے ذرائع نے ترقی حاصل کی، ویسے ویسے نبوت کے دروازے بند ہوتے چلے گئے۔

ہدایت دینے کا اختیار خدا کا ہی ہے۔ انبیاء اگر دلوں میں ایمان ڈال سکتے تو آج ہم میں کثرت سے پائے جاتے۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ خاتم الانبیاء کے ایامِ زندگی میں ہی بلاغت و کتابت نے ترقی پکڑ لی۔
قرآن کے حفاظ پھیل گئے، ایلچی نبی کا پیغام دوسری سلطنتوں تک پہنچانے لگے ،اور جہاں بعثت کے ابتدائی ایام میں عربی میں لکھائی کرنا چند لوگوں کا امتیاز تھا وہاں عمر فاروق کے زمانے میں پہنچنے تک سرزمینِ حجاز میں دنیا کا پہلا مربوط ڈاک کا نظام تشکیل دینا پڑا۔
کچھ تو کتابت ہوتی ہو گی جسے کہیں اور پہنچانا ہو گا۔

یہ مواصلاتی نظام، یہ ابلاغِ عامہ کے ذرائع،جہاں اور بہت کچھ نشر کرتے ہیں وہاں رب العزت کے اُس پیغام کو بھی ہم سب تک پہنچاتے ہیں جو نبی آخر الزمان پر نازل ہوا۔
جس جس تک یہ پیغام پہنچا، اُس نے اپنا راستہ از خود اختیار کرنا ہے۔ چاہے تو ایمان لے آئے چاہے کفر میں مزید بھٹک جائے۔
اب جب شریعت نے تبدیل نہیں ہونا تو کسی اور رسول کی گنجائش کیوں کر ہو۔

انبیا ء کا تسلسل ایک ہی پیغام لے کر آتا ہے۔ 
یہ جب بھی آتے ہیں، حق و باطل کی تمیز کرا جاتے ہیں۔ سچائی کو جھوٹ کی آلودگی سے پاک کرانے کے لیے۔
نبی مسلمانوں کی نہیں بلکہ انسانیت کی ہدایت کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔ 
مسلمان تو انسانیت کا وہ خوش قسمت گروہ ہیں جنھوں نے نبی کی آواز پر لبیک کہا۔

ایمان لانے کے بعد اصلاح کا مستقل عمل ہے۔ 
نبی کی زندگی کے بعد بھی جاری رہنے والی ایک مہم۔
اصلاح، تقویٰ کی ایک کڑی ہے۔
ایک ایسی ذمہ داری جو کہ اجتماعی بھی ہے اور انفرادی بھی۔ 
اس میں راہنمائی کے لیے ہمیں کتاب و سنت کا سہارا تو ہے پر ان کو پسِ پشت ڈال کر اپنی ذمہ داری سے چھٹکار ا نہیں۔
اب اگر ہم سے یہ سب کچھ چھوٹ ہی گیا ہے تو پھر گِلا کیسا!
 آج کی دُنیا میں اس رسوائی کا شکوہ کیسا

حق تعالٰی نے سچ ہی قسم کھائی، بے شک انسان خسارے میں ہے!
شُکر ہے کہ باری تعالٰی نے اِس میں کچھ کو مبرّا کر دیا، اِستثناء قرار دیا۔
فیصلہ اب ہم نے کرنا ہے، اکثریت میں ہو جائیں یا مستثنین میں سے۔

Close Menu