قصہ ایک میثاق کا

دیباچہ

کتاب لکھنا اتنا آسان ہو جائے گا، میں اس سے بے خبر تھا۔
ہاں کچھ دل کی خلش، کچھ لمحاتِ تنہائی ضرور درکار تھے۔
یہ تنہائیوں کا سفر بھی عجیب سا ہے۔ 
کہیں ویرانوں میں دبوچ لیتی ہے تو کبھی بھری محفل میں آ جکڑتی ہے۔

اگر چند سال پہلے کوئی مجھ سے یہ کہتا کہ اُردو میں کتاب لکھوں تو میں ہنس پڑتا۔
لکھنا تو درکنار، میں نے تو اُردو زبان میں فقط چند کتابیں ہی پڑھیں تھیں۔
پھر نہ جانے کب میرے اندر کچھ لکھنے کا ایک اضطرا ب سا ہوا۔
یہ خیال دل میں سما گیا کہ لکھنا بھی اُردو میں ہے۔
نہ یہ علم کہ کیسے لکھنا ہے۔نہ یہ خیال کہ کیا لکھنا ہے۔
بس تاریک راتوں کو میں نیند سے بیدار ہو کر اپنے گھر کے کُتب خانے میں آتا اور دیوانہ وار کچھ لکھتا جاتا۔
سب کچھ انتہائی بے ربط تھا۔ 
کوئی تحریر نہ تو کسی دوسرے سے متشابہ تھی اور نہ ہی آپس میں کوئی نسبت۔ 
نہ کوئی ابتدا اور نہ ہی کوئی انتہا۔
!بھلا کتابیں بھی اس طرح لکھی جاتی ہیں

پھر کچھ یُوں ہوا کہ کڑیاں ملنے لگیں اور ہر منتشر تحریر ایک مربوط سلسلے میں بُننے لگی۔
آمد کا تسلسل جاری رہا۔
لفاظی اور خیالات تھے کہ تھم کے ہی نہ دیتے،کتاب اپنے تکمیل کی جانب بڑھنے لگی۔
حیرت زدہ، میں خود ایک تماش بین بن گیا۔

یہ کتاب مجھ سے کیوں لکھوائی گئی، میں نہیں جانتا۔
اس کا انجام کیا ہو گا، میں اس سے بے خبر ہوں۔
مجھے صرف اتنا علم ہے۔
کوئی اس سے کچھ سمجھے یا نہ بوجھے، میرے فہم میں بہت کچھ آ گیا۔

خالد سعید

قصہ ایک میثاق کا پڑھنے کے لئے صفحہ کے نیچے موجود لنکس کو کلک کریں

Close Menu