قصہ ایک میثاق کا

رحلت

جنت کی ہوائیں خوشگوار اور شامیں رنگین ہوا کرتی ہیں۔
شراب و کباب کی محفل دنیا میں تو معیوب پر وہاں کا معمول ہے۔ 
شا ید یہی وجہ ہے کہ ان کی جاذبیت یہاں تک محسوس ہوتی ہے۔

بہشت میں جب قیام ہو تو زمینی خلافت کی کس کو پرواہ!
باغات ِ عدن بھی ہوں اور ایک خوبصورت ساتھی بھی تو ویسے ہی چار چاند لگ جایا کرتے ہیں۔
کہتے ہیں جوڑے آسمانوں میں بنا کرتے ہیں۔
یہ بھی خوب جوڑا ہے جس کو رب العزت نے خود تخلیق کیا اور فرشتوں کو گواہ مقرر فرمایا۔ 
آدم اور حوا جنت کی ‘رعنائیوں میں گم، دنیا و مافیہا سے بے نیاز آپس میں مگن تھے۔ بانہوں میں با نہیں ڈالے، البتہ جب کبھی وہ اُس شجرِ ممنوعہ کے قریب بھٹک پڑتے تو چونک سیجاتے۔
کبھی باتوں باتوں میں حوا نے آدم سے پوچھا ہو گا کہ اِس درخت کی کیا خاص بات ہے جو خدا نے ہمیں جنت بھر میں صرف اس سے منع فرما دیا ہے۔ 
غالباً آدم نے شانے اُچکا کے مختصر سا جواب دیا ہو گا کہ خدا ہی جانے!
انھیں علم نہ تھا کہ ِاس درخت کے مصرف کا بھیدی شیطان بھی ہے۔ 
اِسی پودے میں تو آدم کی جنت سے منتقلی کا پروانہ محبوس ہے۔

راز تو ابلیس کو مل گیا مگر منز ل بہت دور تھی۔
وہ انھیں وہاں لے جائے کیسے، پہنچائے کیسے!
اس نے کیا کچھ جتن نہیں کیا!
قدم بھٹکا کے جب وہاں کا رُخ کر ایا تو بھاگ پڑے۔
دلوں میں ابہام ڈال کے قریب کیا تو سہم گئے۔
اسے اُن کا اعتماد حاصل کرنا ہو گا۔ اُن کے قریب ہو کراُن کا معتمد بننا ہو گا۔
جب دشمن صلاح کار کا روپ دھارے تو اسے منافقت کہتے ہیں۔
انسانیت نے شیطان کے روپ میں پہلا منا فق دیکھ لیا۔

یہ منا فقت بھی ایک منفرد عمل ہے۔ 
شرک و کفر تو وہ گناہ ہیں جو خدا کے حقوق پر جرح کرتے ہیں۔ 
لیکن منافقت خدا کے خلاف نہیں ہو ا کرتی۔ 
بھلا دلوں کے بھیدی سے منافقت کیسی!
یہ تو صرف انسانوں کی دھو کہ دہی کا سامان ہے۔
شرک و کفر تو اعمال ہیں۔ اِس سرکشی میں کوئی پوشیدگی نہیں، روزِ روشن کی طرح عیاں۔
منافقت دلوں میں مخفی بغض کی کیفیت ہے۔
اِ س میں نہ شجاعت ہے، نہ دلیری۔ 
دغابازی اور فریب کا مجموعہ۔۔۔

جنت تک رسائی تو اُس کی تھی پر اُسے اُن کا اعتماد حاصل تھا نہ قربت۔
جلد ہی اُس پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ جب تک وہ اپنی ہیئت میں رہے گا ناکام ہی ہو گا۔
کہتے ہیں کہ شیطان کی کامیابی کا بڑا راز یہ ہے کہ اُس نے ہم سے اپنے وجود کو ہی پوشیدہ کر لیا۔ کبھی ہمارے سامنے کسی بدکار، کسی خوفناک روپ میں نہیں آیا۔ 
ہم نے کہیں اُس کی چنگھاڑ، کوئی گرج نہ سنی۔

چنانچہ اُس نے روپ بدل کر اُن کے قدموں سے قدم ملا لیے۔ 
کبھی کسی خوبصورت پھول کی طرف اشارہ کر کے اُس کی خوشبو سونگھنے کو ابھارا تو کبھی کوئی انمول سا پھل اُن کی گود میں رکھ دیا۔ 
کبھی کوئی مسحور کُن ساز سنا دیا تو کبھی کسی اَن چلے راستے کی طرف رہنمائی کر دی۔
بے ضرر، معصوم، خفیف اشاروں کنائیوں سے اُنہیں مسرور کر گیا۔
اپنی پُر فریب اٹھکیلیوں سے اُن کے دلوں کی چوکسی لے اُڑا۔

جب تک گھروں میں بسیرا ہو، وہ آباد رہتے ہیں۔
درو دیوار سلامت،اور سامان شاداب رہتے ہیں۔ 
پھر جب مکین چھوڑ جائیں تو جمود آجاتا ہے۔ 
دہلیزیں بوسیدہ اور کھڑکیاں ڈھلک جایا کرتی ہیں۔
!الاؤں بلاؤں کا مسکن
یہی حال دل کا ہے۔ 
جب تک متوجہ ہے، متنبہ ہے۔
جب تقویٰ چھوٹا، اُجاڑ ہوا، بے آباد ہوا۔

رفتہ رفتہ ابلیس رازداں بن گیا۔ آدم و حوا کا ایک معتمد صلاح کار بن گیا۔
وہ گئی راتوں تک بیٹھا اُن کو آسمانوں کے قصے سناتا۔
دنیا کی ہواؤں کے، فرشتوں کی اداؤں کے واقعات بتاتا۔
اُس نے اُنھیں زندگی کی بے ثباتی اور موت کی واقعیت بیان کی۔
جنت کی دوامی اور دنیا کی زوالی کا ذکر کیا۔
اور جب حوا سہم کر آدم کی گود میں سر رکھ دیتیں تو کمال ہنر مندی سے آدم کو تسلی دے دیتا کہ جیسا ہر بیماری کا علاج ہے ویسا ہی یقینا ًموت کا بھی معا لجہ ہو گا۔ 
وہ ‘یہ معمہ ضرور حل کر لائے گا۔

دشمن جب صفوں میں گُھس آئیں تو تباہی ہی کیا کرتے ہیں۔
آدم سے بڑا ستم ہوا جو کل کے حریف کو آج کا مشیر بنا لیا۔
شیطان کی عداوت بھول کر آدم سے ایک حکم عدولی ہو گئی۔
اب دوسری کوتاہی سرزد ہونے میں صرف مہلت ہی درکار تھی۔

پھر کئی دنوں تک وہ غائب رہا۔۔ 
چشمے کے کنارے آدم ایک درخت کی د بیز چھاؤں تلے قصہ سنا رہے تھے۔ 
بہتے پانی میں اپنی پنڈلیاں ڈالے حوا اُن کی باتوں میں مگن تھیں۔ 
اُنہیں آدم کے خوبصورت چہرے پر پیار آیا۔ 
اپنی ٹھوڑی اپنے گھٹنوں پر رکھے، وہ اپنے محبوب کے ہونٹوں کو تکتی رہیں۔ ا
ُن کے بالوں، اُن کی پلکوں، اُن کی آنکھوں میں کھو گئیں۔
اچانک ایک ہلکی سی کھڑکھڑاہٹ ہوئی۔ ایک مودبانہ کھنکھار سنائی دی۔
اُن کا رفیق آگیا۔

کہاں کھو گئے تھے جناب! آدم نے دلچسپی سے پوچھا۔
وہ لپک کر قریب آ گیا اور زیرِِ لب مسکرا کے بولا، حضور بہت بڑا معرکہ سر کر ! لیا۔ حیاتِ جاویداں کا معمہ حل ہو گیا
حوا نے پاؤں باہر کھینچ لئے۔ آدم چونک کر متوجہ ہو گئے۔
اُنہیں آج اُس کی آنکھوں میں فتح کی رعنائی نظر آئی۔ 
اُس کے لبوں پر کامیابی کا خمار دکھائی دیا۔
انہیں اپنی توقعات پوری ہوتی نظر آئیں۔ یہ یقین ہو گیا کہ اُس کی چمک، یہ شعلہ فگاں دمک، ایک دوست کی کامرانی کے نشاں ہیں۔
اور واقعی آج ابلیس کامیاب ہوگیا۔

پُر تجسس، انھوں نے سوال کیا، کیا زمین سے آب ِ حیات کا ذخیرہ ملا ہے یا پھر آسمانوں سے کوئی راز!
نہیں، جس بھید کو میں ستاروں کی تنہائی اور سورج کی رعنائی میں ڈھونڈتا رہا، وہ اِس گھر میں ہی موجود تھا! اُس نے بڑی رازداری سے جواب دیا۔
تمھارا رب شاید تمھاری عقل و فہم کا امتحان لینا چاہتا تھا۔ اُس نے ابدی زندگی کا عقدہ اُس ممنوعہ پودے میں ہی چھپا رکھا ہے۔ اب جب تم اُس کے پھل کو چکھ لو گے تو نہ صرف اپنی فراست کے امتحان میں کامیاب ہو جاؤ گے بلکہ تمھارا رب تم کو بطورِ انعام ہمیشہ کی زندگی سے نواز دے گا۔ موت تمھارے قریب بھی نہ بھٹک پائے گی۔

اُن کے چہرے دم دما اُٹھے۔ ایسی دمک جو صرف کسی گمی ہوئی قیمتی شے کے مل جانے پر ہی آیا کرتی ہے۔ 
اپنی اِ س کامیابی پر اُن کی آنکھوں میں شرارت کی لہر دوڑ گئی۔
کھنکھناتی ہنسی کے ساتھ حوا نے آدم کا ہاتھ پکڑا اور دونوں اُس درخت کی جانب دوڑ پڑے۔
لہلہا تے پھولوں کے درمیان، چہچہاتے پرندوں کی صداؤں میں۔
پھولتی سانسوں سے دونوں اُس مقام تک پہنچے اور جھپٹ کے وہ انمول پھل توڑ لیے۔
اپنی ذکاوت، اپنی عقل مندی پر آفرین وصول کرنے کے لیے اُن کے دمکتے چہروں نے
آسمان کی جانب دیکھا۔
ابدی زندگی کے متوالوں نے جوں ہی وہ پھل منہ میں رکھا، دنیا ہی بدل گئی۔
یہ پھل جنتی تو نہیں! 
اِس میں نہ تو مٹھاس ہے اور نہ ہی خوشبو!
پہلی بار انھیں اُس ذائقے کا احساس ہوا جسے ہم کڑواہٹ کہتے ہیں۔ پہلی بار اُنھیں پسینہ آگیا۔
جنت میں کبھی کوئی چیز تھوکی نہیں جاتی۔
اور اُس کے بعد شاید اب دوبارہ تھوکی بھی نہیں جائے گی۔

پھل کھاتے ہی آدم و حوا کا ستر رہ گیا۔ وہ ایک دوسرے کے سامنے عیاں ہو گئے۔
ندامت و پشیمانی میں اُنھوں نے اپنے جسم دوہرے کر لیے۔ 
شرم سے سر شار، آس پاس کے پتے جھپٹ کے اپنی عُریانیت کو دھانپنا شروع کر دیا۔

ہم نے اکژ شیرخوار بچوں کو ننگا تو دیکھا ہے پر عُریاں نہیں۔
کیا کبھی ہمیں معصوم پھولوں میں فحاشی نظر آئی!
بچہ ماں کے سینے سے دودھ پیتا ہے پر وہی عورت اپنے بیٹے کی جوانی میں اپنا جسم ڈھانپ لیا
کرتی ہے۔
اعضاء تو وہی ہوتے ہیں پر محر م کے آگے ہوشمندی نہیں۔
دل کا، آنکھ کا پردہ، یہ شعور کی باتیں ہیں۔

آج ابلیس کا پہلا انتقام پورا ہو گیا۔ اپنی بے نقابی کے بدلے اُس نے آدم کو بے حجاب کر دیا۔
اب اُس کا کام یہاں مکمل ہو گیا۔
اپنے بغض کا بوجھ شانوں پہ دھرے، وہ زمین کی جانب رواں ہو گیا۔
اپنے حواریوں کے گروہ کی طرف، اپنے عدُو کے انتظار کے لیے۔

لیکن اتنا بڑا تردد صرف اتنے سے کام کے لیے! 
محض عُریانیت پر اکتفا!
نہ آدم کا روپ بگڑا اور نہ حوا نے سانپ سی پھنکار ماری۔
نہ کوئی بھوت بنا، نہ کوئی چُڑیل۔
ایسا بھی کیا کیا جو اُنھیں بے پردہ کر دیا۔ 
کیا ہم آج کل ایسی بے خوفیاں روزانہ نہیں دیکھتے۔
شیطان کی دوڑ کیا اتنی ہی تھی!

بہت دور کی کوڑی لایا تھا وہ۔ 
اگر صریح مکاری نہ ہوتی تو یقیناً حِکمت کے زمرے میں آتی۔
یہ معرکہ ابھی سَر نہیں ہوا۔ جس چیز کی ابتداء جنت میں کرائی اُس کی انتہا کا سامان دنیا 
میں ہونا تھا۔ 
آدم و حوا کی بے حجابی میں شرم غالب رہی۔ لیکن ابھی تو نسلیں باقی تھیں اور ابلیس نے بھی خوب سبق دھرائے تھے۔
اولادِ آدم میں بے حجابی سے بے اعتنائی اور پھر بے حیائی کو عام کرنا تھا۔
لیکن کیوں!

Close Menu