قصہ ایک میثاق کا

سفر دنیا

!جنت اور ویرانی
بہشت میں تو ہمیشہ سے ہی دلربائی اور دل کشائی کا سامان رہاہے پھر آج یہاں یہ ماحول کیسا
ویرانی شائد دلوں کی ہی ہوا کرتی ہے اور آج آدم و حوا کے اندر خوف، اندیشہ، ندامت اور پشیمانی کا غلبہ تھا۔
عتابِ الٰہی کا خدشہ غالب ہو تو جنت بھی ایک آتش کدہ سے کم نہیں۔
یہ کمال بھی حضرتِ انسان نے حاصل کر لیا کہ باغاتِ عدن میں ہونے کے باوجود 
بارگاہِ ایزوی میں شرمسار ہو گئے۔اور یہی شرمساری، یہی ندامت و پریشانی اُن کو ابلیس سے 
بالا اور رب کے حضور دوبارہ مقبول کر گئی۔

رب العزّت نے سوال تو کئے پر آدم سے جواب نہ بن پایا۔
مالک نے یاد دہانی تو کرائی لیکن غلام سر جھکائے خاموش کھڑا رہا۔
حاکم نے عذر تو مانگا پر محکوم نے تڑپ کر مغفرت کی طلب کر لی۔
پھر جس جلیل القدر نے اپنے اوپر رحم کو لازم کر لیا ہو وہ خود کم ظرفی کا مرتکب کیسے ہو!
بخشش مانگنے والے اُس کے دربار میں بخش ہی دیے جاتے ہیں۔

اگر ماضی کا آدم اعترافِ گناہ نہ کرتا تو مستقبل کا آدم زاد دوبارہ کبھی جنت میں نہ
داخل ہو سکتا۔
حکم ہوا کہ جاؤ اب دُنیا میں اُتر کر قیام کرو۔
تنزلی برائے خلافت بھی ایک منفرد تجربہ تھا۔ 
انسان نے بھی اپنی مختصر سی زندگی !میں کیا کچھ دیکھ لیا

نسلِ آدم فقط ارتقائی مراحل طے کر کے یہاں تک نہیں پہنچی اور نہ ہی انسانیت کی 
پرورش و ترقی کا راز صرف انفرادی کاوشوں میں ہے۔ 
وہ شروع کے اہم ایام ایسے نہ تھے کہ صرف اپنے سہارے ہی جیا جا سکتا۔ 
بالکل ایسے ہی جیسے بچہ پیدائش کے ابتدائی برسوں میں کلی طور پر محتاج ہوتا ہے ویسے ہی انسانیت اپنے طفلی ایام میں اپنی نشوونما کی محدود استطاعت رکھتی ہو گی۔
اسلوب ِ زندگی کی تعلیم کچھ تو جنت میں ہی ہو گئی اور کچھ کے لیے چرند، پرند، موسم و ماحول کی جانب دیکھنا پڑا۔
غالباً ابتدائی ایّام میں وحی کا تسلسل ہو گا، مستقل الہام ہوتے ہوں گے، بہت سی مخلوقات نے اپنے اپنے علم کا حصہ ڈالا ہو گا۔
آخر خلیفہ کا مقام تھا، کسی شہر بدر مجرم کا نہیں۔

شائد انسانیت کے لیے بھی دنیا پہلے زیادہ مسخر تھی۔ 
ہماری اجتماعی ترقی کے ساتھ ساتھ باقی مخلوقات ہم سے مبّرا ہوتی چلی گئیں۔
داؤد کے ہمراہ پہاڑ نغمہ گیر ہو ا کرتے تھے اور پرندے ہمنوا۔
ہوائیں سلیمان کی تابع تھیں اور جنات اُن کے خدمتگار۔
ابراہیم کی آگ گلزار بن گئی، موسٰی کا بحر ٹھہر گیا، مریم کا دستر خوان از خود آباد رہتا۔
جس اولاد میں کرامات کی اتنی بھرمار ہو، اُن کے اجداد تو خود صاحبِ خلافت تھے۔
اتنے نہتے تو وہ بھی نہیں بھیجے گئے ہوں گئے۔ 
بہت کچھ اُنھیں بھی عطا کیا گیا ہو گا۔

ہم اپنے محبوب بچوں کو درس تو خوب یاد کرا سکتے ہیں پر امتحان میں اُنھوں نے خود ہی 
بیٹھنا ہوتا ہے۔
رب نے بھی تیاری تو کرا دی پر آزمائش ِ زندگی سے تو ہمیں ہی گزرنا تھا۔ 
آدم و حوا جب موسم کی گونا گوں کیفیت دیکھتے ہوں گے تو جنت کی یاد بھی ستاتی ہو گی اور جب تاریک راتوں کی گھڑ گھڑاتی بارش سے بچنے کے لیے کسی غار کا انتخاب کرتے ہوں گے تو اس اندھیرے میں نہ جانے شیطان کتنا قریب دبک کر بیٹھا اپنے وقت کا منتظر ہو گا۔
نظروں سے پوشیدہ، ویرانے میں مخفی۔
نسلِ آدم کا انتظار بھی کتنا کٹھن مرحلہ تھا۔ 
کتنے ہی ‘ نو ‘ مہینے اُسے تا قیامت برتنے پڑے۔

Close Menu