قصہ ایک میثاق کا

سجدۂ تعظیمی

جب منصب عطا ہوتا ہے تو کچھ تکلفات بھی برتے جاتے ہیں۔
کہیں بینڈ باجے کا رواج ہے توکبھی فوجی سلامی دی جاتی ہے۔
کچھ دستار بندی کرتے ہیں تو کسی کی رسم تاج پوشی کا اہتمام ہوتا ہے۔
مقصد نہ صرف تشہیر کرنا ہوتا ہے بلکہ صاحبِ منصب کی، شان ِ منصب کے مطابق عزت افزائی۔

ایسا ہی کچھ اہتمام بارگاۂ ایزوی میں کیا گیا۔ 
قطار در قطار فرشتوں کے ہونٹوں پر تبسم، چہروں پر طمانیت لیکن آداب محفل 
ملحوظِ خاطر۔ 
خاموش خوش گپیوں میں مصروف انھوں نے غالباً چوری آنکھ سے آدم کی جانب ضرور دیکھا ہو گا اور پھر نظر بچا کر آپس میں گھل مل گئے ہوں گے۔

شاید آدم بھی اس محفل کی ساخت اور حاضری کو دیکھ کر متعجب ہوئے ہوں گے کہ اتنا بڑا اہتمام میری خاطر!
یقینا ًزیر ِ ِ لب فرشتے قیاس آرائیوں میں مصروف ہو ں گے کہ خلافت عطا ہونے کے بعدعلامتاً کیا حکم جاری ہو گا۔
کسی نے سوچا ہو گا کہ شاید بیعت لی جائے گی اور کسی کا قیا س ہو گا کہ ہماری صفوں میں شامل کر لیا جائے گا۔ 
آخر عزازیل کو بھی تویہ اعزاز حاصل ہوا ہے!

عزازیل کے ذکر پر کچھ نگاہوں نے اسے تلاش کیا ہو گا۔ 
اس اجلاس میں اسے بھی تو ہونا تھا۔
وہ موجود تو تھاپر مقربین کی اس محفل میں اسے آج اپنا وجود اجنبی سا محسوس ہوا۔ 
اپنے معمول کے بر عکس اسے نہ تو اگلی صفوں میں نشست کی خوہش تھی اور نہ ہی کسی سے میل ملاپ کی۔ 
اپنی ذات کی تنہائی میں گم اسے صرف دو ہی نفس نظر آرہے تھے: مرتب عالی پر آدم ؑ اور مجمع کے اژدہام میں گم اپنی ذات۔

اسے اپنی عبادتیں اور اپنی ساخت یاد آئی۔
اسے ابلیس سے تدارج کرتے ہوئے عزازیل تک کا طویل سفر نظر آیا۔
آج اس پر کائنات کا وہ چپہ چپہ عیاں تھا جہاں اس کی پیشانی نے سجدوں کے نشان چھوڑے۔ 
اور اسے ان احساسات کے پس پردہ آدم کا نو ساختہ اور نو زائیدہ وجود نظر آیا جس نے
نا معلوم وجوہات کی بنا پر اس سے سبقت حا صل کر لی۔
اگر آدم زہد میں ممتاز ہوتا تو بھی کوئی بات تھی۔
اگر آدم محض ہم عصر ہی ہوتا تب بھی کچھ سکوں تھا۔
خلافت کے لئے کچھ تو معیار ہوتا۔ 
یا عبادت کو ترجیح ملتی یا پھر خلقت کا امتیاز ہوتا۔
کہاں آتش کے لپکتے شعلے، کہاں خاک کی حقیر اصلیت!

اسے آدم کے وجود سے گھن آئی۔
اسے آدم کے خلق سے گارے کی تعفن کا احساس ہوا۔
اس نے اپنی ناک سکوڑ لی۔ اس نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں ڈھانپ لیا۔
اپنے اور آدم کے درمیاں کئی کوس کا فاصلہ اور بڑھا لیا۔ 

محفل میں خاموشی چھا گئی۔ 
وہ ہلکی سی بھنبھناہٹ سناٹے میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔
تخلیق کا مرحلہ تمام ہوا، خطاب کا وقت آ گیا۔
پہلے ہی ارشاد ہوچکا تھا کہ سجدۂ عبدیت کا صرف میں ہی حقدار ہوں اور میرے نائب کا عہدہ متقاضی ہے کہ اسے سجدۂ تعزیمی کیا جائے۔
اب حکم صادر ہوا اور ملائیکہ سجدے میں گر گئے۔

جب جماعت سجدے میں چلی جائے تو فضا خالی ہو جایا کرتی ہے۔ 
ایک خلا سا محسوس ہوتا ہے۔
دیر کرنے والے تنہا رہ جاتے ہیں جب تک کہ جا نہ ملیں۔ 
کچھ ایسا ہی وہاں بھی محسوس ہوا۔

یہ شعور ابھرا کہ اس خلا میں ابھی خلل باقی ہے۔ 
اس یگانگت میں ایک کراہت نے انتشار کر دیا ہے۔
ابھی مجمع میں ایک سر ہنوز اپنے دھڑ سے بلند تھا۔ ایک کمر نے ابھی تک بل نہیں کھایا۔
“کفر “حکم عدولی کا نام ہے اور آج ابلیس کافروں کی صف میں کھڑا ہو گیا۔

اس ادراک پر لرزتے سر بسجود ہی رہے۔ 
اب کسی میں اپنی پیشانی اٹھانے کی جسارت کیوں کر ہو! 
حکم خدا وندی کے بغیر اب یہ جبیں تا قیامت نہ اٹھ پائیں گئے۔
نا فرمانوں کی صف میں کھڑا ہونا ان کا وصف ہی نہ تھا۔
آج آدم نے خلافت کا جبہ اوڑھا اور ابلیس نے عزازیل کا لبادہ اتار پھینکا۔

دراصل نظام کائنات ایک خوبصورت توازن ہے۔
ہر چیز کا اپنا مقام، ہر عمل کا اپنا دخل۔
اس نظام کو برقرا ر رکھنے میں تنظیم یا نظم و ضبط کا بڑا ہاتھ ہے۔ 
اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ محض نظم و ضبط ہی کارو بار زندگی چلانے کا واحد عنصر ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ یہ وہ ایندھن ہے جس کے بغیر کسی بھی نظام کی گاڑی نہیں چل سکتی۔

ہمارے حکام کبھی تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بناتے ہیں تو کوئی انصاف کی فراہمی کو-
کسی کا نصب العین معاشیات ہے تو کوئ دفاع پر مرکوز ہو جاتا ہے-
ان سب کی افادیت اپنی جگہ پر قائم ہے پر یہ کیا ستم ظریفی ہے کہ ہم نے بنیاد پر توجہ دی ہی نہیں اور عمارت کھڑی کرنے بیٹھ گئے!
تنظیم کی اہمیت و افادیت کو نظر انداز کر دینا ایک بہت بڑی کو تاہی ہے۔

انتظام کی بڑی خاصیت ہماری کاوشوں کو مربوط طریقے سے مرکوز کرنا ہے۔ ہماری انفرادی اور اجتماعی سرگرمیوں کو ایک مطابقت عطا کرنا۔
افطار و سحر کے اوقات کے بغیر غذاء سے پرہیز کرنا فاقہ ہے، جبکہ ان اوقات کی پاسداری کی وجہ سے وہی بھوک ایک عبادت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ 
کسی سواری پر جھپٹ پڑنا ایک ابتری ہے لیکن اسی پر سوار ہونے کے لیے قطار بنا لینا ایک
منصفانہ نظام بن جاتا ہے۔
معاشرے میں تنظیم جتنی نمایاں ہو گی، اتنا ہی اشرفیت کا غلبہ ہو گا۔
قومیں وہی ترقی پاتی ہیں جن میں نظم و ضبط ہو۔

ہماری عبادات بھی ہمیں تنظیم کا سبق دیتی ہیں ورنہ امامت اور جماعت کے بغیر جو جب چاہے رکوع اور سجدے میں جائے یا پھر محض قیام سے استفاوہ کرے۔
جب رب بھی وہی اور بندہ بھی یہی تو کوئی وجہ ہو گی کہ رب العزت نے ہمیں مخصوص اوقات پر ہی عبادت کا پابند کردیا اور نمازوں کو مختلف رکعتوں پر پھیلا دیا۔

ہماری تسبیح میں مخصوص اعداد کی گنتی بھی ایک لمحہ فکر ہے۔
بھلا جب بندہ اپنے رب کے عشق میں مگن ہو جائے تو پھر یہ گنتیوں والا حساب کیسا!
یہاں بھی رب العزت نے تنظیم کی ایک کڑی ملا دی،ہمیں باتوں باتوں میں انتظام کا پابند کر دیا۔
یہ الگ بات ہے کہ ان مخصوص کلمات کی ادایئگی کے لئے اعداد کے حساب پر مرکوزہونے کے بجائے ہم نے تسبیح ایجاد کر لی۔ 
اچھے بھلے اتنظامی امر کوپس پشت ڈال دیا۔

نافرمانی کا ارتکاب ایک سنگین عمل ہے جس کے نتائج دور رس ہو سکتے ہیں اس لئے رب العزت نے اپنی اکثر مخلوقات کو انکار کا اختیار دیا ہی نہیں۔ 
اگر سورج اپنے مدار پر رہنے سے انکا ر کر دے تو کہکشاؤں کو لے ڈوبے۔
اگر کشش ثقل اپنی جاذبیت چھوڑنے کا اعلان کر دے تو دنیا کا حیاتی نظام خلا میں 
منتشر ہو جائے۔
اگر پانی سرکشی میں آ کر اپنی اچھال بند کر دے تو مچھلیاں تک غرق ہو جائیں۔

سر کشی، کفر، حکم عدولی، یہ سب تنظیم کی ضد ہیں۔ اس کی نفی۔
اگر کفر عام ہو جائے تو نظام درہم برہم ہو جائیں۔
رب العزت کے تمام اہلکار اس بات کے پابند ہیں کہ خدا وند کے حکم پر طوعاً و کرھا ً 
عمل کریں۔
دربار عالی میں کفر کی گنجا ئش نہیں اور جس جس کو انکار کی صلاحیت دی گئی ہے اس سے اس کا احتساب بھی ہو گا۔
جن و انس وہ دو مخلوقات ہیں جنہوں نے اس اختیار کے استعمال میں بہت کم ظرفی کا 
مظاہرہ کیا۔

Close Menu