قصہ ایک میثاق کا

تخلیق

اُس مصور اعلیٰ نے آج ایک نئی تخلیق کا قصدکیا۔
کائنات دم بخود تھی کہ جس معمار نے اسے محض ‘کُن ‘ کے حکم سے ‘فیٰکون’ کے مراحل طے کرا دئیے وہ آج کس تصنیف میں مگن ہے۔
جُوں جُوں یہ خبر پھیلی، آسمانوں پر ایک گہما گہمی چھا گئی۔
ملائیک آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ جنات سن گن لینے ہر جانب لپکتے نظر آئے۔ 
یقینا ًیہ کوئی نئی دنیا ہو گی، فرشتوں نے سوچا۔ بھلا مٹی کی مختلف اقسام اور گدلے پانی کی آمیزش سے کچھ اور بھی بن سکتا ہے!

مصور نے اپنی تخلیق کو اُبھارنا شروع کر دیا۔
گارا ایک روپ دھارنے لگا۔ 
چکنی مٹی نے اپنی ہیئت کچھ ایسی بدلی کہ جسمانی اُبھار نظر آنے لگے۔ 
ٹانگیں قوی پر بے ڈھنگ نہیں۔
کَسرتی خوبصورت جسم ایک تنگ کمر سے شروع ہو کر کشادہ سینے میں ضم ہو ا۔ 
باہیں توانا لیکن سڈول ایسی کہ نزاکت کا گماں ہو۔

پھر اُس معبود کی توجہ اپنی تخلیق کے چہرے پر مرکوز ہوئی اور ایسے نقوش نمودار ہونا شروع ہو ئے جو اِس سے پہلے کسی شکل کو نصیب نہ ہوئے تھے۔ 
دلکش تراشے ہونٹ جن پر اس معمار نے اپنی لطافت سے ایک ہلکا سا ابھار عطا کر دیا۔
ناک نے جب اپنی صورت دھاری تو سب دَم بخود رہ گئے۔ 
اس سے قبل یہ عضو یا تو تھوتھنی کے طرز پر واضح ہوتا تھا یا پھر صورت سے چسپاں ایک جزو۔
چہرے کے دونوں جانب مناسب وزن اور بناوٹ کے دو کان نمودار ہوئے، ناک اور پیشانی کے وسط دو – دلنشیں آنکھوں کو نمایاں کیا۔ 
آنکھیں ! یہ آنکھیں بھی کیا دلکش تخلیق ہیں۔ 
بصارت کی یہ علمبردار نہ صرف ظاہر کو عیاں کر دیتی ہیں بلکہ اہل نظرتو ان کے ذریعے روحوں تک میں جھانک لیا کرتے ہیں۔ 
جہاں میں اس سے پہلے ہرن کی آنکھ کی مثال دی جاتی تھی، آج یہ اعزاز اس نئی تخلیق نے حاصل کر لیا۔
جب بات ہتھیلی اور انگلیوں تک آئی تو نادانستہ سب نے اپنے اپنے ہاتھ پیٹھ پیچھے کر لیے۔ بھلا اس نئے فن پارے کے سامنے کسی میں اپنی جانب دیکھنے کی جسارت رہ گئی تھی!

عزازیل، جو کہ جنات میں سے ہونے کے باوجود اپنی عبادت اور ریا ضت کی بنا پر محفل ملائیکہ میں شمو لیت رکھتا تھا، حیرت زدہ، فرشتوں کی ایک قطار میں کھڑا محو فکر تھا کہ یہ کیسا وجود ہے کہ جس کے عناصراتنے حقیر ہیں او ر اہتمام اتنا شاندار!

تجسس نے جوش مارا کہ اب جبکہ اعضا ء تیار ہوگئے تو بدن کا غلاف کیا ہو گا۔ 
کیا یہ وحوش کی مانند بالوں کا مجسمہ ہو گا یا پھرمچھلی کی طرح برہنہ۔ 
مصور آخر مصور تھا۔ اس نے بھی آج خوب ہی ٹھانی۔ 
بالوں اور جلد کا ایک ایسا حسین امتزاج نمودار ہوا کہ نگاہیں ٹھہر ہی گئیں۔

نظارہ کرنے والوں میں کچھ سمجھدار بھی تھے۔
انہیں احساس ہو اکہ یہ سب کچھ یوں ہی نہیں ہو رہا۔ یہاں تو تخلیق کی باریک بینیاں مظہر ہیں۔ 
ایسا ہی کچھ منظر انھوں نے پہلے بھی دیکھا تھا۔۔۔
جب تعفن اور بدبو کا وجود کیا گیا تو اس کا مقصد خبر دار کرنا تھا۔ 
ایک انتباہ تھا کہ میں جس چیز میں سرائیت کر جاؤں اس سے بچو کہ وہ مضر ہے، خطرناک ہے۔ 
لیکن جب خوشبو تخلیق کی گئی تو اس کا بظاہر کوئی سبب نہ تھا۔ 
وہ صرف ایک لطیف کی لطافت بھری صنعکاری تھی۔ 
محض دل کو خوش کرنے کے لیے۔ 
روح اور ذہن کو مسرور کرنے کے لئے۔

جسم تو تیار ہو گیا پر جسد خاکی ہی تھا۔ 
جذبات، احساسات اور اعمال سے عاری۔
کارخانہ خدا کی یہ تخلیق ابھی تکمیل تک نہ پہنچی تھی۔ 
مسکراہٹ جو لبوں پہ تھی، منجمد رہی۔ وہ آنکھیں اپنی تمام تر جانشینی کے باوجود پتھرا سی گئیں۔ اُس ہاتھ کی بے جان انگلیاں ہوا میں معلق ہی رہیں۔

اور پھر ان آسمانوں نے وہ منظر دیکھا جس کا گمان اپنے وہم میں بھی نہ کر سکتے تھے۔ 
خالق اپنے بے جان شاہکار کی جانب متوجہ ہوا اور حیا ت و ہستی کے انمول تحفے کے طور پر اس میں اپنی جانب سے روح پھونک دی۔

اس طین کے مجسمے میں گویا شفق کی لہر دوڑگئی۔ اس کی رگوں میں خون کے بہاؤ کے ساتھ اس کے اعضا میں حرارتِ زندگی کا دورہ ہوا۔ 
جب روح نے ہونٹوں سے اوپر سرائیتکرتے ہوئے آنکھوں کو چوما تو اس کی پلکوں پر لرزش ہوئی۔
نظر کی گستاخی سے پہلے ہی دل نے اپنے رو برو خالقِ کائنات کے وجود کا ادراک کیا۔
اپنے معبود کی جاہ و جلال کا شعور ہوتے ہی اس کی انگلیاں لر ز سی گئیں۔ وہ ہونٹ جو اسی لمحے ایک دوسرے سے جدا ہوئے تھے، کپکپا اٹھے۔
آدم اپنا سر تسلیم خم کیے، بدستور پلکیں جھکائے، عاجزی اور اضطراب کی کشمکش میں والہانہ اپنے رب الجلیل کے حضور سر بسجود ہو گئے۔

فرشتوں کی صف میں کہرام برپا ہو گیا۔ جنات تتر بتر ہو گئے۔
آج اس نئے خلق نے سجدہ ریزی میں پہل کر لی۔ 
حمد و ثناء کرتے یہ ملائیک دیوانہ وار سجدوں میں جا پڑے۔ اپنے رب سے استغفار کرنے لگے۔ 
عزازیل کے دل میں ایک کسک سی ہوئی۔ 
ے کاش یہ مقام مجھے ہی عطا ہوتا۔

Close Menu