قصہ ایک میثاق کا

یوم حساب

!یہ وحشت اور دہشت کا سماں کیا ہے
!اتنی سراسیمگی
!یہاں تو فرشتے بھی سہمے ہوئے ہیں
پہلے بھی تو انسانیت جمع ہوئی تھی۔ اب وہ سکون کی کیفیت، وہ طمانیت کہاں گئی
!کہاں گئی

!وہ میرے اکابرین۔۔۔ کون سے اکابرین 
!وہ میرے ہمعصر۔۔۔ کیسے ہمعصر
وہ میری پیاری پیاری اولاد۔۔۔ کہاں کی اولاد
اس نفسا نفسی میں کیوں کچھ نہیں سوجھ رہا
یہاں تو ایک پُر ہجوم ریل گاڑی کے اڈے کا سا سما ں ہے۔
پر یہ کیسے بار بردار ہیں جو کہ مسافروں کا بوجھ خود اُنہی پر لاد رہے ہیں
ابتری کا یہ عالم ہے کہ مائیں اولاد کو اژدھام میں بھول رہی ہیں۔
شوہر بیوی سے بے پرواہ ہے۔
وہ کل کی سعادت مند اولاد نہ جانے کس کس جھنجھلاہٹ میں والدین کو دھتکار رہی ہے۔

اس بے ہنگمی سے بچنے کے لیے میں نے کچھ پل کے لیے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔
کیسی عجیب بات ہے! جب انسانیت زماں و وقت کی قید سے بے نیاز کر دی گئی تو میں چند لمحات کی تلاش میں نکل پڑا!
مجھ پر اپنے چھوٹے بڑے اعمال سب عیاں ہو گئے۔ 
کیا کچھ وہ ظاہر ہو گیا جس سے میں دُنیا میں بے پرواہ تھا۔
اتنا بوجھ میں نے کما لیا! صرف اُن چند سالوں میں
کچھ وہ بھی نظر آ گیا جس کی آج مجھے شدت سے طلب تھی۔
لیکن کیا یہ میزان کے پلڑے میں اِتنی وُقعت رکھے گا!
میں نے آنکھیں کھول دیں۔

بہت سے نامی گرامی آج خفّت میں مبتلا ہیں۔ 
کئی ستم گر یہاں گرد آلود دکھائی دیے۔
اور ہاں بہت سے ایسے بھی نظر آئے جو ماحول کی تند خوئی پر پریشاں تو تھے پر پشیماں نہیں۔ 
اُن کے چہروں پر نہ تو کوئی خوف تھا اور نہ کوئی غم۔
مقربین کا ٹولا دور سے ہی پہچانا گیا۔

یہاں کا منطق بھی معنی خیز طور پر علامتی ہے۔
تذلیل چہروں پر بھی نظر آ رہی ہے اور جسم کے اعضاء کے فقدان کی صورت میں بھی۔
بہت سے وہ جو دنیا میں چنگے بھلے تھے، آج نابینا، بہرے اور اپاہج نظر آئے۔
کئی وہ جو وہاں کمزور و رسوا دکھائی دیتے تھے آج ہشاش بشاش ہیں۔ 
اور ایسے بھی تھے جو وہاں بھی معتبر رہے اور یہاں بھی ممتاز ہیں۔
ازل سے ابد تک کے بہتے دریا کی محض ایک آبشار نے انسانیت کو کیسا منتشر کر دیا!
ایک حکم صادر ہوا اور نہ جانے کہاں سے جنت اور دوزخ نمودار ہونا شروع ہو گئے۔
اِس میدان میں اُنہیں کہاں چھپایا گیا تھا!
کچھ چہرے دمک اُٹھے، کئی دھڑکتے دل بے کراں مایوسیوں میں ڈوب گئے۔
ایک اور حقیقت تمام ہوئی!

یکا یک انسانیت ٹولیوں میں بٹنے لگی۔
قطاریں بن گئیں۔ کتابیں کھول دی گئیں۔ ترازو تُلنے لگے۔
لیکن یہ کیا! یہاں تو حساب انفرادی بھی ہے اور اجتماعی بھی!
! کیا ہم نشینی کا بھی جواب دینا ہو گا
ہم میں سے کئی وہ تھے جنہوں نے صرف ذات پر توجہ دی اور معاشرے کو نظر انداز کر دیا۔

دم سادھے میں اِن مناظر کا تماش بین بن گیا۔
جہاں اکثر کا میزان سرِعام تولا گیا وہاں کچھ ایسے بھی قرار پائے جن کے لیے تخلیہ کا 
بندو بست ہو ا۔
رب اور بندے کے درمیان رازو نیاز کی کچھ باتیں ہوتیں اور وہ بہشت کی جانب رواں دواں ہو جاتا۔ 
پیچھے مڑ کے بھی نہ دیکھتا!
جن کی کتاب دائیں ہاتھ میں دی گئی وہ خوش و خرم نظر آئے اور جس کے بائیں ہاتھ کو ترجیح ملی وہ تباہ و برباد ہو گیا۔
بہت سے وہ بھی نظر آئے جن کے لیے نہ تو ترازو کا تکلف تھا اور نہ ہی کسی تخلیہ کا انتظام۔
وہاں کچھ تولنے کے لیے بچا جو کچھ نہ تھا!
ایسی سرکشی میں زندگی گزاری کہ فرشتوں کا کام آسان ہو گیا۔ دہلادینے والی چیخ و پکار سے بے نیاز وہ انہیں جہنم میں دھکیل دیتے۔

اے کاش میں دنیا کے باسیوں کے پاس لوٹ جاتا۔ 
چِلا چِلا کر انھیں خبر دار کر دیتا کہ اس حقیقت سے چھٹکارا نہیں۔
کہ وہاں کہرام بھی ہے اور آرام بھی۔
کہ اعمال کا میزان بہت معتبر ہے۔

میری تمنا محض ایک سوچ ہی رہی۔ 
یہ کام تو تواتر سے انبیاء سر انجام دیتے آ رہے تھے۔
اور ہم پھر بھی آج اس ابتری میں مُبتلا ہیں!
پر میں لوٹ کر جاتا بھی تو کہاں!
اب تو نہ وہ دنیا ہی رہی اور نہ وہ آسمان۔ یہ تو ایک نئی کائنات ہے۔
مجھے اپنے ستاروں، سورج اور چاند کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔
کتنی دلکش اپنایت تھی اُن بادلوں میں!
اُس سر سبز گھاس اور اُن نازک پھولوں میں!
واقعی وہ دنیا خوب سجائی گئی تھی۔ 
اور میں نہ جانے کہاں مصروف رہا! 
میرے دل میں ایک کسک سی ابھری۔ کیا خوب ہوتا جو میں دنیا میں اُن سب کی موجودگی کا بھی شکر ادا کر دیتا!

متخیرخیالات میں گم، میں بھی ایک قطار میں لگ گیا۔
کبھی میں اپنے دائیں ہاتھ کی جانب دیکھتا اور کبھی بائیں ہاتھ کی طرف۔
اگر یہاں علامتی تشخص کا معیار نہ ہوتا تو میں یقینا ًکوئی بھاری پتھر لے کر اپنی بائیں ہتھیلی
کو کچل دیتا۔
جنت کی دوامی بِن ہاتھ کے گزار دیتا پر آج فرشتوں کے آگے محض اپنا دایاں بازو 
ہی بڑھا پاتا۔
جُوں جُوں میرا وقت قریب آتا گیا میرا دل اور دھڑکنے لگا۔
مجھے علم نہیں کہ میرا نامۂ اعمال میرے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا کہ بائیں ہاتھ میں۔
مجھے اِتنا ضرور یاد ہے کہ آج مجھے انصاف کی نہیں، اُس جلیل القدر رب سے، فضل کی طلب تھی، رحم کی طلب تھی، در گزر کی طلب تھی۔

Close Menu